زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 27

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 27 جلد چهارم یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک نسبت ہے اور ہماری کمزوریاں ان کے اچھے نام کو بد نام کرنے کا موجب ہو سکتی ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اپنے طریق عمل کو ہمیشہ اعتراض سے بالا ر کھنے کی کوشش کرو گے۔ہمیشہ یادر ہے کہ مواقع فتن سے ہی نہ بچو بلکہ بدنامی کے مواقع سے بھی بچو۔عورتوں کے ساتھ الگ بیٹھنا، الگ سیر کو جانا وہاں کے حالات میں ایک معمولی اور طبعی بات سمجھا جاتا ہے۔مگر تم لوگوں کو اس سے پر ہیز چاہئے۔وہاں عورتوں سے مصافحہ نہ کرنا ایک بہت بڑی پریشانی ہے مگر اس سے بڑھ کر یہ پریشانی ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کے حکم کو توڑ دیں۔(8) غذا میں پر ہیز رہے۔وہاں جھٹکے کا گوشت ہوتا ہے جب تک غذا میں پر ہیز کو شرمیٹ (kosher meat) جو یہود کا ذبیحہ ہے اور جائز ہے میسر نہ ہو خود ذبح کر کے جانور دو اور اسے کھاؤ دوسرا گوشت کسی صورت میں مت چکھو۔مچھلی، انڈا، سبزی وغیرہ یہ چیزیں غذا کے طور پر اچھی ہیں۔گوشت کی ضرورت ان کے بعد اول تو ہے نہیں ورنہ ہفتہ میں دو تین بار مرغ ذبح کر کے پکوالیا کرو۔بہر حال یہ امر یا در رکھنے کے قابل ہے کہ حلال غذا سے حلال خون پیدا ہوتا ہے۔اگر غذا ئیں حرام ہوں گی تو خون بھی خراب ہوگا اور خیالات بھی گندے پیدا ہوں گے اور دل پر زنگ لگ کر کہیں کے کہیں نکل جاؤ گے۔خدا تعالیٰ نے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سے الگ ہو کر کامیابی ناممکن ہے۔الله پس ان سامانوں کو نظر انداز نہ کرو۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں الا لِكُلِّ مَلِک حِمى وحمى اللهِ مَحَارِمُهُ 8 کان کھول کر سن لو کہ ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے کہ جو شخص اس رکھ میں داخل ہوتا ہے سزا پاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رکھ اس کے مقرر کئے ہوئے محارم ہیں۔پھر فرمایا عقل مند انسان وہ ہے جو رکھ کے پاس بھی اپنے جانور نہ چرائے۔کیونکہ غلطی سے بھی جانوراندر چلے گئے تو یہ مصیبت میں مبتلا ہو جائے گا۔پس کھانے کے معاملہ کو معمولی نہ سمجھو۔جہاز پر بھی اور ولایت جا کر بھی یاد رکھو۔انگریزی جہازوں پر پرند گلا گھونٹ کر مارے جاتے ہیں دوسرا گوشت وہ اکثر بمبئی سے خریدتے ہیں۔حلال کھانے والے کے لئے وہ پرند کے