زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 26
زریں ہدایات (برائے طلباء) 26 جلد چهارم پس ایسی خواہش کبھی دل میں پیدا نہ ہو۔کوئی سچا عاشق یہ خیال نہیں کر سکتا کہ اس کا محبوب اسے اس لئے ملے کہ وہ لوگوں کو دکھا سکے۔عشق جب پیدا ہوتا ہے تو باقی۔احساس دبا دیتا ہے۔دنیا وَمَا فِيهَا بھلا دیتا ہے۔پس ان لوگوں والی غلطی کبھی نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ قدوس ہے۔انسان کی جب اس پر نظر پڑتی ہے تو وہ باقی سب اشیاء کو بھول جاتا ہے۔کیونکہ اس پر نظر پڑتے ہی وہ خود بے عیب ہو جاتا ہے۔اور شرک سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو گا۔پس اس قسم کے رذیل اور کمینے خیالات دل میں مت آنے دو۔صرف خدا تعالیٰ کی جستجو ہوا اور اس کے سوا سب کچھ فراموش ہو جائے۔بدنامی کے مواقع سے بچو (7) یادرکھو کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے ہو۔ایک دفعہ تم بچپن میں سخت بیمار تھے اور جان کے لالے پڑ رہے تھے۔انہی دنوں حضرت خلیفہ اسیح الاول گھوڑے سے گر گئے اور ان کی تکلیف نے ہمارے دل سے ہر خیال کو نکال دیا۔میں ان کے پاس بیٹھا تھا اور وہ تکلیف سے کراہ رہے تھے۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد غنودگی ہو جاتی۔میں پاس بیٹھا دعا کر رہا تھا۔تمہاری حالت زیادہ خراب ہو گئی اور تمہاری والدہ نے سمجھا کہ تم مرنے ہی والے ہو۔ان کی طرف سے ایک آدمی گھبرایا ہوا آیا۔میں نے پیغام سنا اور سن کر خاموش ہو گیا کیونکہ حضرت خلیفہ اول کی محبت کے مقابلہ میں تمہاری محبت مجھے بالکل بے حقیقت نظر آتی تھی۔تھوڑی دیر کے بعد پھر آدمی آیا۔پھر میں خاموش ہو رہا۔پھر تیسری دفعہ آدمی آیا اور اُس وقت خلیفہ اول ہوش میں تھے۔انہوں نے اس کی بات سن لی کہ ناصر احمد کی حالت خطر ناک ہے جلد آئیں۔میں پھر بھی خاموش رہا اور نہ اٹھا۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت خلیفہ اول نے میری طرف منہ پھیرا اور کسی قدر ناراضگی کے لہجہ میں کہا میاں! تم گئے نہیں !! اور پھر کہا کہ تم جانتے ہو کس کی بیماری کی اطلاع آدمی دے کر گیا ہے؟ وہ تمہارا بیٹا ہی نہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پوتا ہے۔مجھے بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا اور میں گھر پر آیا۔ڈاکٹر کو بلا کر دکھایا اور تم کو کچھ دنوں بعد خدا تعالیٰ نے شفا دے دی۔مگر یہ سبق مجھے آج تک یاد ہے۔ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ہم کون ہیں بلکہ