زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 312
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 312 جلد چهارم آج دنیا اسلام کا پیغام سننے کے لئے بے تاب ہے اور وہ اپنی روحانی تشنگی بجھانے کے لئے اسلام کے چشمے سے سیراب ہونا چاہتی ہے احمدی نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں اور دور دراز علاقوں میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچا ئیں۔مورخہ 22 نومبر 1956ء کو جامعتہ المبشرین کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مکرم مولوی عبد القدیر صاحب کے بیرون ممالک سے واپسی پر ان کو خوش آمدید کہنے کیلئے دریائے چناب کے کنارے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں حضرت خلیفہ اہسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل خطاب فرمایا:۔دو یہ تقریب دو مبلغوں کے واپس آنے پر منعقد کی گئی ہے۔اس میں شک نہیں مبلغین کا کئی کئی سال تک ممالک غیر میں تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کے بعد واپس آنا بھی ہمارے لئے خوشی کا موجب ہے لیکن ہمارے لئے اور زیادہ خوشی کا موجب یہ امر ہے کہ مبلغ باہر جائیں کیونکہ آج دنیا اسلام کا پیغام سننے کے لئے بیتاب ہے۔وہ روحانیت کی پیاسی ہے اور اس امر کی محتاج ہے کہ کوئی آئے اور اس کی پیاس بجھائے۔خود غیر ممالک کے لوگوں کی طرف سے بکثرت خطوط موصول ہورہے ہیں کہ ہمارے ہاں بھی مبلغ بھیجو تا کہ وہ ہم تک اسلام کا پیغام پہنچائے اور ہم اپنی روحانی تشنگی بجھا سکیں۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے اور ہمیں اس