زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 284

زریں ہدایات (برائے طلباء) 284 جلد چهارم ہے تو اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔کیونکہ یہ کالج تعلیم الاحمدیہ کالج نہیں تعلیم الاسلام کالج ہے اور اسلام ایک وسیع لفظ ہے۔کوئی کوڈ آف ماریٹی (Code of Morality) جس کو علمائے اسلام نے کسی وقت تسلیم کیا ہو یا اب اسے تسلیم کر لیں وہ اسلام میں شامل ہے۔پس میں طلباء کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم کالج کی روایات کو قائم رکھو۔یہ تعلیم الاسلام کالج ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کالج تمہیں عملی مسلمان بنادے گا اور یہی اس کالج کے قائم کرنے کی غرض ہے۔پھر ہر کالج کی کچھ نہ کچھ روایات ہوتی ہیں۔مثلا آ کسفورڈ یونیورسٹی ہے اس نے آکسفورڈ میں تعلیم پانے والے تمام طلباء کے لئے ایک خاص قسم کا نشان مقرر کیا ہوا ہے۔اب جو شخص اس نشان کو دیکھے گا وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ اس نے آکسفورڈ میں تعلیم پائی ہے۔ہمارے ملک میں علیگڑھ کالج نے اس قسم کی روایات قائم کی تھیں۔وہاں سے فارغ ہونے والے طلباء اپنے نام کے آگئے علیگ لکھ لیتے تھے اور جو شخص یہ لفظ پڑھتا اگر وہ بھی علیگڑھ میں پڑھا ہوا ہوتا تو اس سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا۔اس قسم کی روایات اس کالج کے ساتھ بھی وابستہ ہونی چاہئیں۔چونکہ اس کالج کا نام تعلیم الاسلام کالج ہے اور تم میں سے ہر ایک اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہاں آیا ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم یہاں رہ کر اسلام سیکھو۔آگے میں نے بتایا ہے کہ یہاں فرقہ بندی کی کوئی بات نہیں۔تم کسی فرقہ کے مخصوص عقائد پر عمل کرو اور دوسرے لوگوں کو بتاؤ کہ کالج والے ہمیں جرات دلاتے ہیں کہ ہم اپنے اپنے فرقہ کے عقائد پر عمل کریں۔اگر ہم حنفیت پر عمل کرتے ہیں تو وہ اس سے روکتے نہیں، اگر ہم شیعیت پر عمل کرتے ہیں تو وہ اس میں مخل نہیں ہوتے ، اگر ہم دیو بندی یا بریلوی ہیں تب بھی وہ ہمارے مذہبی عقائد میں دخل اندازی نہیں کرتے ، اس سے ملک کے لوگوں میں عمل کی سپرٹ پیدا ہوگی اور پاکستان سے ستی کی لعنت دور ہوگی۔شیخو پورہ میں ایک عیسائی پادری تھا وہ اپنی مدت ملازت پوری کر کے واپس جا رہا تھا کہ ہمارے مبلغ اپنے سوشل تعلقات کی وجہ سے ان کے گھر گئے۔اس سے وہ بھی ممنون