زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 280

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 280 جلد چهارم طور پر کوئی چیز بھی بری نہیں۔ہاں اگر وہی چیز تعیش کے طور پر کی جائے تو وہ علم نہیں بلکہ جہالت ہے۔مثلاً چوری بھی ایک علم ہے۔اگر یہ علم نہ سیکھا جائے تو جاسوس کیسے بنیں۔اس کے متعلق بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان میں لکھا ہے کہ چور کی ایک عادت ہوتی ہے اور وہ اسے بار بار دہراتا ہے۔مثلاً ایک چور کو کھڑکی سے کودنے کی عادت ہے۔دوسرے کو سیندھ لگانے کی عادت ہے۔جاسوسوں نے ان پر نشان لگایا ہوا ہوتا ہے۔جب بھی کوئی چوری ہوتی ہے جاسوس اس نشان کا تتبع کرتے ہیں۔مثلاً کسی گھر میں چوری ہوتی ہے اور چور کھڑکی سے کو دا ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ کتنے چور ایسے ہیں جنہیں کھڑکی سے کودنے کی عادت ہے۔ان کے متعلق وہ یہ معلوم کریں گے کہ ان میں سے کون سا شخص فلاں تاریخ کو گھر سے غیر حاضر تھا۔جو شخص گھر سے غیر حاضر ہوگا وہ اسے پکڑ لیں گے۔غرض یہ بھی ایک علم ہے اور یہ اپنی ذات میں برا نہیں اس سے بہت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔پس جو علم قانون قدرت کے مطابق ہیں وہ دین کا ایک حصہ ہیں۔ان کے ساتھ خود بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔تمہیں جو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کیا گیا ہے تو اس مقصد کے ماتحت داخل کیا گیا ہے کہ تم دین کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم بھی سیکھو۔میں جانتا ہوں کہ تم میں سے 30 ، 40 فیصدی غیر احمدی ہیں لیکن تم بھی اس نیت سے یہاں آئے ہو کہ دینی تعلیم حاصل کرو۔بے شک کچھ تم میں سے ایسے بھی ہوں گے جو دوسرے کالجوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔اس کالج کا خرچ تھوڑا ہے اس لئے وہ یہاں آگئے۔یا ان کا گھر ربوہ سے قریب ہے اس لئے وہ اس کالج میں داخل ہو گئے۔یا ممکن ہے ان کے بعض رشتہ دار احمدی ہوں اور وہ یہاں آباد ہوں اور انہیں ان کی وجہ سے یہاں بعض سہولتیں حاصل ہوں۔لیکن تم میں سے ایک تعداد ایسی بھی ہوگی جو یہ سمجھتی ہوگی کہ اس کالج میں داخل ہو کر ہم اسلام سیکھ سکیں۔تم میں سے جو طالب علم اس نیت سے یہاں نہیں آئے کہ وہ اسلام کی تعلیم سیکھ لیں میں ان سے بھی کہتا ہوں کہ تم اب یہ نیت کر لو کہ تم نے اسلام کی تعلیم سیکھنی ہے۔اور جب میں یہ کہتا