زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 279
زریں ہدایات (برائے طلباء) 279 جلد چهارم بات سن لیں اس کے بعد آپ جو چاہیں کہیں میں تو سمجھتا ہوں کہ جو جذبات انسانی فوٹو میں نہیں لائے جا سکتے ایک پینٹر اپنی تصویر میں انہیں بآسانی لا سکتا ہے۔پینٹنگ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ چاہے کوئی شخص ہنس رہا ہو وہ اسے تصویر میں روتا ہوا دکھا سکتا ہے۔یا چاہے کوئی کتنا شریف ہو وہ اسے تصویر میں بدمعاش اور غنڈا دکھا سکتا ہے۔اس لئے اسلام نے ان تصویروں کی ممانعت کی ہے کیونکہ ان کے ذریعہ اچھے سے اچھے آدمی کو برا دکھایا جاسکتا ہے۔فوٹو میں یہ بات نہیں۔اگر کوئی آدمی ہنس رہا ہو تو فوٹو اسے ہنستا ہوا ہی دکھائے گا۔اب یہ کہ اس میں کوئی فلسفہ ہوتا ہے یا بعض بار یک باتیں ہوتی ہیں جو ایک عام آدمی نہیں سمجھ سکتا یہ غلط۔۔انہوں نے کہا بات آپ کی سمجھ میں نہیں آئی۔میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔چنانچہ وہ سمجھاتے رہے اور آخر میں میں نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلے دوست کو موسیقی کے بارہ میں دیا تھا کہ نصف گھنٹہ یا پون گھنٹہ تک آپ سمجھاتے رہے لیکن میں جو کچھ سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس علم کے متعلق جو کچھ میں اب تک سمجھتا رہا ہوں وہ غلط ہے اور آپ نے جو کچھ سمجھانا چاہا ہے وہ میں نہیں سمجھا۔اب دیکھو د و علم گئے جو مجھے نہیں آتے۔پھر میں کہاں حکیم کہلا سکتا ہوں۔نہ میں علم موسیقی جانتا ہوں اور نہ میں Painting جانتا ہوں۔ورنہ مجھے ہر علم کا شوق ہے۔ہاتھ دیکھنا، کمپیریٹوریلیجن (Comparative Religion)، طب، جغرافیہ، تاریخ ، حساب اور باقی اکثر علوم کے متعلق میں نے کتابیں پڑھی ہیں اور میں ان کے متعلق خاصی واقفیت رکھتا ہوں۔لیکن یہ علوم میں نے کالج میں نہیں پڑھے۔پرائیویٹ طور پر ان کا مطالعہ کیا ہے۔ایک چھوٹا سا نکتہ تھا جس نے مجھے اس کا شوق دلایا۔میں ایک دفعہ دہلی جا رہا تھا کہ سفر پر جانے سے پہلے حضرت خلیفہ اول نے مجھے کہا میاں! تم نے کبھی کچھنی کا ناچ بھی دیکھا ہے؟ مجھے بہت شرم آئی کہ آپ نے یہ کیا سوال کیا ہے اور میں کوئی جواب نہ دے سکا۔آپ نے فرمایا میاں ! تم دین سیکھ رہے ہو اگر تمہیں کچھی کے ناچ کا ہی علم نہیں تو تم اس کے متعلق کیا رائے قائم کر سکتے ہو۔تم اسے فن کے طور پر دیکھو۔اس چیز نے مجھے احساس دلایا کہ علم کے