زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 278
زریں ہدایات (برائے طلباء ) واقف نہیں ہوں۔278 جلد چهارم ایک دفعہ ایک لطیفہ ہوا۔کسی نے موسیقی سیکھی تو میں نے کہا میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ جب کوئی شخص کسی خاص سُر میں گاتا ہے اور اس میں وہ کوئی مضمون بیان کرتا ہے تو یہی چیز موسیقی کہلاتی ہے۔اگر آواز اور لہجہ اچھا ہوا تو وہ کانوں کو بھی اچھا لگتا ہے۔لیکن یہ جو تم صرف تاروں پر گاتے ہو اور اسے پکا راگ کہتے ہو یہ کیا ہے؟ ایک شخص کہتا ہے کہ گاڈ سیو دی کنگ" (God save the king) خدا تعالی بادشاہ کو سلامت رکھے۔اب اگر تاروں پر اس فقرہ کو دہرایا جائے تو گاؤ سے کوئی دوسرا لفظ بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔اب ہم اس آواز سے کوئی دوسرا لفظ کیوں مراد نہ لیں۔صرف یہ کیوں سمجھیں کہ گانے والا ' گا ڈسیو دی کنگ کہہ رہا ہے۔میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سُر ہے۔آگے یہ ٹر جس لفظ سے بھی مل جائے مل جائے۔آپ نے چونکہ اس سر کو گاڈ سیو دی کنگ“ کے لئے بنایا ہے اس لئے آپ ہیں کہ گانے والا یہی گا رہا ہے۔وہ کہنے لگے آپ نہیں سمجھتے میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے علم موسیقی کے متعلق آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ گفتگو کی اور مجھے اس کے متعلق بعض باتیں سمجھانے کی کوشش کی اور پھر فخریہ طور پر کہا اب تو آپ سمجھ گئے ہوں گے؟ میں نے کہا میں نے علم موسیقی کے متعلق پہلے جو کچھ سمجھا تھا اب معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی غلط ہے۔لیکن اب آپ نے جو کچھ بتایا ہے وہ بھی میں نہیں سمجھا۔کچھ عرصہ کے بعد میں لاہور گیا وہاں ایک معزز غیر احمدی دوست مجھے ملنے آئے۔مجلس میں موسیقی کا ذکر ہو رہا تھا۔وہاں میں نے یہ لطیفہ سنایا۔انہیں پینٹنگ (painting) کا شوق تھا۔میں نے کہا آپ بتائیں یہ کیا علم ہے۔اگر ہم کوئی پہاڑی بنا لیں یا کوئی گدھا یا گھوڑا بنا لیں تو یہ تصویر ہمیں اچھی لگے گی لیکن مجھے اس بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ایک غیر انسانی چیز ہے اور اس کے سامنے ہزاروں تاریں ہیں۔گویا وہ اس کی ٹانگیں ہیں۔اب کیا دنیا میں کوئی اس قسم کی مخلوق ہے جس کی ہزاروں ٹانگیں ہوں ؟ انہوں نے کہا آپ نے پینٹنگ کو نہیں سمجھا یہ بھی ایک علم ہے۔میں آپ کو سمجھا تا ہوں۔میں نے کہا پہلے میری 6