زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 277
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 277 جلد چهارم ي یاد رکھو دنیوی علوم کا سیکھنا جرم نہیں بلکہ ان کا سیکھنا بہت ضروری ہے۔قرآن کریم ان سب علوم کی تائید کرتا ہے۔خدا تعالیٰ سِیرُ وا فِي الْأَرْضِ 4 کہہ کر تاریخ اور جغرافیہ کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اسی طرح کہتا ہے تم اسراف سے کام نہ لو بلکہ اقتصاد کو ملحوظ رکھو۔یہ کام بغیر حساب کے کس طرح ہو سکتا ہے۔پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ تم ستاروں، سورج اور چاند کی گردش کی طرف دیکھو۔اور یہ کام علم ہیئت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔پھر قرآن کریم نے سائیکالوجی کو بار بار پیش کیا ہے کہتا ہے اَفَلَا تَعْقِلُونَ 5 اس طرح منطق کو بیان کرتا ہے مثلاً فرماتا ہے مشرکین کہتے ہیں کہ ہم وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر تمہارے باپ دادا بیوقوف بھی ہوں تو کیا پھر بھی تم وہی کچھ کرو گے جو وہ کرتے چلے آئے ہیں 6 اب دیکھو یہ منطق ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ تمہارے باپ دادا اپنی بیوقوفی کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے کیا تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر تباہ ہو گے۔غرض قرآن کریم ہر قسم کے علوم کو حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔جب بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے ہائی سکول کا قیام فرمایا تو اس کا نام تعلیم الاسلام ہائی سکول رکھا۔آپ کی نقل میں ہم نے بھی اس کالج کا نام تعلیم الاسلام کا لج رکھا ہے۔آپ نے جب سکول بنایا تو آپ کی غرض یہ تھی کہ اس میں صرف قرآن کریم اور حدیث ہی نہیں بلکہ دوسرے دنیوی علوم بھی پڑھائے جائیں گے اور اس طرح آپ دنیا کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ دوسرے علماء نے جو بعض دنیوی علوم کو غیر اسلامی کہا ہے غلط ہے۔سب چیزیں خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں اس لئے جو چیز بھی دنیا میں پائی جاتی ہے اس سے فائدہ اٹھا نا ضروری ہے۔پھر اپنی ذات میں کوئی علم برا نہیں۔ہر علم سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔گو سارے علوم میں دسترس رکھنے والے زیادہ نہیں ہوتے۔مثلاً مجھے ہی اللہ تعالیٰ نے بہت سے علوم عطا فرمائے ہیں مگر پھر بھی میں حکیم نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ حکیم اس کو کہا جاتا ہے جو ہر فن اور ہر علم میں دسترس رکھتا ہو اور مجھے بعض علوم نہیں آتے۔مثلا علم موسیقی بھی ایک علم ہے مگر میں اس سے