زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 276
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 276 جلد چهارم روز ہر ایک سے حساب لوں گا۔اگر وہ حساب دان ہے تو ہم حساب کیوں نہ سیکھیں۔اگر جغرافیہ کا جاننا خدا تعالیٰ کے لئے کوئی عیب نہیں تو یہ ہمارے لئے بھی عیب نہیں۔اگر جغرافیہ اور حساب جاننے کے باوجود خدا تعالیٰ کی ذات پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا تو ہمارا حساب اور جغرافیہ سیکھنا بھی ہمیں دین کے دائرہ سے خارج نہیں کرتا۔بدقسمتی سے مسلمانوں نے گزشتہ زمانہ میں یہ خیال کر لیا تھا کہ ان کا علوم پڑھنا جرم ہے۔چند دن ہوئے بنگال سے ایک وفد یہاں آیا۔اس کے بعض ممبروں نے بتایا کہ ابتدا میں مولویوں نے ہی کہا تھا کہ انگریزی پڑھنا جرم ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے اس زبان کا بائیکاٹ کر دیا اور ہندوؤں اور دوسری اقوام نے اس زبان کو سیکھا۔اس طرح ہند و مسلمانوں سے آگے نگل گئے۔اب ہر کام میں ہندو مسلمان سے آگے ہیں۔گویا اسلام کو جن مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کا موجب ہمارے مولوی ہی ہیں۔اگر مولوی لوگ انگریزی زبان کی کے خلاف فتوئی نہ دیتے تو مسلمان بھی ابتدا میں ہی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے اور وہ بہت زیادہ ترقی کر جاتے۔لیکن انہوں نے اس قدر سختی کی کہ کیمیا، سیمبیا، جغرافیہ اور دوسرے تمام علوم انہوں نے ممنوع قرار دے دیئے۔ہمارے ہاں ایک روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ سے ملے اور آپ نے سوال کیا کہ اے خدا! اگر آپ دنیا میں ہوتے تو کیا کرتے اور کون سی چیز خوراک کے طور پر استعمال کرتے ؟ خدا تعالیٰ نے جواب دیا میں خدا ہوں میں نے کیا کھانا تھا۔مجھے خوراک کی احتیاج نہیں۔پھر مجھے انسان کی طرح دنیوی کام کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر بھی بتائیے کہ اگر آپ دنیا میں ہوتے تو کیا کام کرتے اور کیا چیز بطور خوراک استعمال کرتے ؟ اس پر خدا تعالیٰ نے کہا اگر میں دنیا میں ہوتا تو دودھ چاول کھاتا اور ردی کاغذ چتا۔گویا ہمارے مولویوں کے نزدیک دنیوی علوم کا سیکھنا تو جرم ہے اور چوہڑوں کا کام کرنا یعنی زمین پر پڑے ہوئے ردی کاغذ چننا ایسا کام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ دنیا میں آتا تو نعوذ باللہ وہ بھی یہی کام کرتا۔