زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 275
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 275 جلد چهارم تو دنیا میں جتنے مضامین پائے جاتے ہیں وہ قرآن کریم کے شاہد ہیں۔جس طرح ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ نماز روزہ کے احکام پر عمل کریں اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ حسب استطاعت د نیوی علوم بھی سیکھیں۔آگے جس طرح کوئی زیادہ عبادت کرتا ہے اور کوئی کم عبادت کرتا ہے اسی طرح کوئی زیادہ علوم سیکھ سکتا ہے اور کوئی کم علوم سیکھ سکتا ہے۔ہمارے ہاں کوئی علاج معالجہ کا کام کرے تو اسے حکیم کہا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے بعض نسخ معلوم کر لئے ہیں اور چونکہ اس کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں ہوتی اس لئے وہ ان نسخوں کے ذریعہ روزی کما لیتا ہے۔حالانکہ "حکیم" کا لفظ یونانیوں نے ایجاد کیا تھا اور وہ اس شخص کے متعلق حکیم کا لفظ استعمال کرتے تھے جو سارے علوم جانتا ہو۔اسے علم ہیئت بھی آتا ہو ، حساب بھی آتا ہو، علم کیمیا بھی آتا ہو، علم سیمیا بھی آتا ہو، جغرافیہ میں بھی اسے دسترس حاصل ہو۔اسی طرح وہ فلسفہ، منطق اور علم علاج میں بھی واقفیت رکھتا ہو۔اسے موسیقی بھی آتی ہو کیونکہ موسیقی بھی ایک قسم کا علم ہے۔ان سب علوم کے جاننے کے بعد کوئی شخص حکیم کہلاتا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول ایک ماہر طبیب تھے اور طبابت کے علاوہ آپ کو کئی اور علوم میں بھی دسترس حاصل تھی۔جب لوگ آپ کو حکیم کہتے تھے تو آپ فرماتے تھے میں تو طبیب ہوں حکیم نہیں ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجھے بعض اور علوم بھی آتے ہیں لیکن میں نے علم موسیقی نہیں سیکھا اس لئے میں بھی حکیم نہیں کہلا سکتا کیونکہ حکیم اس شخص کو کہتے ہیں جو سب علوم جانتا ہو۔اب بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کی طائرانہ نظر ہر علم پر پڑ جاتی ہے۔مثلاً برنارڈ شا کو ہر علم میں تھوڑی بہت دسترس حاصل تھی اور وہ ہر علم کو استعمال کرنا جانتا تھا۔پس علوم کا سیکھنا اسلام کا ہی ایک حصہ ہے۔آگے تم زیادہ علوم سیکھ لو یا کم یہ تمہارا کام ہے۔پس تعلیم الاسلام کالج کے یہ معنی نہیں کہ یہاں صرف قرآن کریم اور حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ واقعات کے خلاف ہے۔یہاں دنیوی علوم بھی سکھائے جاتے ہیں۔جب تم یہ سمجھ کر حساب سیکھتے ہو کہ قرآن کریم نے کہا ہے حساب سیکھو تو یہ اسلام کا ہی ایک حصہ بن جاتا ہے۔خدا تعالی خود فرماتا ہے کہ میں قیامت کے