زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 20

زریں ہدایات (برائے طلباء) 20 جلد چهارم سکتی۔کوئی لالچ یا کوئی خوف مجھے اس سے دور نہیں کر سکتا۔میں نے دیکھا اور مشاہدہ کیا کہ اس کے دیئے ہوئے علم کے سوا کوئی علم نہیں اور اس کی دی ہوئی عقل کے سوا کوئی عقل نہیں۔دنیا کے عاقل اس کے سامنے بے وقوف ہیں اور دنیا کے عالم اس کے سامنے جاہل ہیں۔جو اس سے دور ہوا حقیقی علم سے دور ہوا۔پس جو یہ خیال کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے جاری کئے ہوئے چشمہ کے علاوہ کسی اور جگہ سے علم حاصل کر سکتا ہے وہ نہایت احمق اور جاہل ہے۔علم سب کا سب قرآن میں ہے اور یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔میں نے دنیا کا کوئی علم نہیں سیکھا۔میں مدرسہ میں ہمیشہ فیل ہوا اور نا کام ہی میں نے مدرسہ چھوڑا۔دوسری تعلیم سوائے قرآن کے کوئی حاصل نہیں کی۔لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ سے مجھے دنیا کے سب علوم کے اصول سکھا دیئے ہیں۔میں لوگوں کی خود ساختہ اصطلاحات بے شک نہیں جانتا لیکن میں ان سب علوم کو جانتا ہوں جو انسان کے دماغ کو روشنی دینے اور اعمال انسانی کی اصلاح اور اس کی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔آج تک کسی علم والے سے میں مرعوب نہیں ہوا۔اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ اپنے مخاطب پر غالب رہا ہوں۔اس نے میری عقل کو روشنی بخشی اور میرے علم کو نور عطا کیا۔اور ایک جاہل انسان کو عالم کہلانے والوں کا معلم بنایا۔فَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيم اس تجربہ کے بعد میرا یہ خیال کرنا کہ تم انگلستان علم سیکھنے جاتے انگلستان بھیجنے کی وجہ ہو پرلے درجہ کی ناشکری اور انتہاء درجہ کی احسان فراموشی ہوگا۔سب علم قرآن کریم میں ہے۔اس لئے سب سے پہلے میں نے تمہیں قرآن پڑھوایا بلکہ حفظ کروایا۔پس پیشتر اس کے کہ تم ہوش سنبھالتے علم کا سر چشمہ تمہیں دلایا گیا اور عرفان کا دریا تمہارے اندر جاری کر دیا گیا۔اب آگے اس سے فائدہ اٹھانا، نہ اٹھانا تمہارا کام ہے۔پس اگر تم یہ محسوس کرتے ہو کہ جو کچھ تم باہر سیکھتے ہو اس سے بڑھ کر تم کو قرآن کریم میں ملتا ہے اور اگر تم یہ مشاہدہ کرتے ہو کہ باقی سب علم مردہ ہیں اور صرف قرآن کریم کا علم زندہ ہے، اگر ان باتوں کو تم ایک ایمانی کیفیت کے طور پر نہیں محسوس کرتے ہو بلکہ حق الیقین کی طرح اپنے وجود