زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 251
زریں ہدایات (برائے طلباء) 251 جلد چهارم ہیں۔صبح کے وقت مکہ میں چلے جاؤ ، قاہرہ میں چلے جاؤ بازاروں میں لوبیا کی دیگیں تیار ہوں گی اور ہر شخص اپنا برتن لے جائے گا اور تنور کی روٹیاں اور لوبیا کی پھلیاں لے آئے گا۔غریب اسے یونہی کھا لیتے ہیں اور امیر آدمی گھی کا تڑکہ لگا لیتے ہیں۔اسی طرح دو پہر کے وقت روٹی بازار سے آتی ہے اور سائن کے طور پر بھی وہ کوئی سستی سی چیز لے لیتے ہیں اور گزارہ کر لیتے ہیں۔مگر ہمارے ہاں یہ حالت ہے کہ لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم وہ ماما رکھنا چاہتے ہیں جو ایک سیر آئے میں 80 پھلکے پکا سکتی ہو۔بازار والوں نے اپنے کام کو اس طرح ہلکا کر لیا کہ سیر آٹے میں چھ روٹیاں تیار کر لیں اور انگریزوں نے سیر میں چار اور بعض دفعہ دو۔اور انہوں نے اپنے کام کو اس طرح بو جھل بنا لیا کہ 80،80 پھلکے بنانے لگے۔یہ سب شغل بے کاری ہیں جن کو دور کرنا پڑے گا اور جن کو دور کر کے ہی تم اپنا وقت بچا سکتی ہو۔آخر علم کے استعمال کے لئے تمہارے پاس وقت چاہئے۔اگر تم نے اپنے آپ کو ایسا بنالیا کہ تمہارے پاس کچھ بھی وقت نہ بچا تو تم نے کرنا کیا ہے۔پس پہلا سوال وقت کا ہے۔تم کو اپنی زندگی ایسی بنانی پڑے گی کہ تم ان کاموں کے لئے اپنے اوقات کو فارغ کر سکو۔پھر تمہارے لئے آسانی ہی آسانی ہے۔اور تم اس وقت سے فائدہ اٹھا کر بیسیوں ایسے کام کر سکتی ہو جو تمہاری ترقی کے لئے ضروری ہیں۔پس یہ مسئلہ بھی تمہیں ہی حل کرنا پڑے گا۔اور اگر تم حل کر لو تو تمہاری مائیں آپ ہی آپ تمہاری نقل کرنے پر مجبور ہوں گی۔ہم نے دیکھا ہے لڑکی پرائمری پاس ہوتی ہے تو جاہل مائیں اپنی لڑکی کے آگے پیچھے پھرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہماری یہ بیٹی پرائمری پاس ہے۔بڑی عقل مند اور ہوشیار ہے۔اگر مائیں اپنی پرائمری پاس لڑکیوں کی بات رد نہیں کر سکتیں تو تم تو بی۔اے ہو گی تمہاری بات وہ کیوں ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گی۔یہ کام جو میں نے بتایا ہے اسے معمولی نہ سمجھو۔یہی وہ چیز ہے جس نے ہمارے ملک کی عورت کو بے کا ربنا دیا ہے۔دوسری قوموں نے تو اس مسئلہ کو حل کر لیا اور چھ سات ٹے بچا لئے لیکن تمہیں کھانے پکانے کے دھندوں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔اگر تم بھی چھ سات گھنٹے بچا لوتو یقینا تم