زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 226

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 226 جلد چهارم گہرائیوں پر غور و تدبر کرنا چھوڑ دیا۔حالانکہ جب معمولی سے معمولی چیز میں ایک توازن اور ایک نسبت موجود ہے تو یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ صانع اول کی طرف سے نازل شدہ کا کتاب میں ترتیب نہ ہو۔“ حضور نے قرآن مجید کے اس حکم کا ذکر فرمایا کہ گھروں میں ان کے دروازوں کے ذریعہ داخل ہونا چاہئے 1 اور اس کی لطیف تشریح کرتے ہوئے فرمایا:۔اس کا یہی مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر اخلاقی، قومی اور ملکی اور مذہبی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے ایک راستہ مقرر فرمایا ہے۔اگر اس راستے کو اختیار نہ کیا جائے گا تو اس کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسے دروازے کی بجائے دیوار پھاند کر گھروں میں داخل ہو جائے۔اور یہی وہ اصل ہے جس پر انجینئر نگ کی بنیاد ہے۔اور یہ اصل اسلام کے ہر حکم میں بھی کارفرما ہے۔پس ہمارے طلباء کو چاہئے کہ وہ انجینئر نگ کی تعلیم کی روشنی میں معمار اول یعنی خدا تعالیٰ کی قدر کو بھی پہچانیں۔اگر وہ اس نقطہ نگاہ سے قرآن مجید کا اور اسلام کا مطالعہ کریں گے تو یقیناً ان کا ایمان ترقی کرے گا اور انہیں یہ نظر آ جائے گا کہ جس طرح انجینئر نگ کی بنیاد ڈیزائن پر ہے اسی طرح اسلام کی بھی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے ہر حکم میں ایک ڈیزائن رکھتا ہے۔“ تقریر کے شروع میں حضور نے اس امر پر خوشی کا اظہار فرمایا کہ " ہمارے طلباء انجینئرنگ کی طرف جو ایک اہم شعبہ ہے توجہ دے رہے ہیں۔“ 1: وَأتُوا البيوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا (البقرة : 190) (الفضل 4 اپریل 1951ء)