زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 221

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 221 جلد چهارم سے قو میں زندہ رہتی ہیں۔تم ان لوگوں کی بنیاد ہو جنہوں نے دنیا فتح کرنی ہے اور اسلام کا جھنڈ از مین کے چپہ چپہ میں گاڑنا ہے۔پس جماعت میں بیداری ہونی چاہئے اور یہ روح ہونی چاہئے کہ اس کے افراد دین کو دنیا پر مقدم رکھیں۔یہی خدمت ہے جس سے خدا تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آئندہ بڑے رزق والی نسلیں تمہارے بیچ سے پیدا ہوں گی۔جن لوگوں نے پہلے قربانیاں کی تھیں انہی کی نسلیں اب معزز گئی جاتی ہیں۔ہز ہائی نس سر آغا خان کو لے لو وہ سید کہلاتے ہیں لیکن باوجود اس احمقانہ تعلیم کے کہ وہ خدا ہیں یا خدا تعالیٰ کے قائم مقام ہیں پچھلے دنوں ان کی امریکہ اور بمبئی میں جو بلی منائی گئی اور ہیرے اور جو ہرات سے انہیں تو لا گیا اور پھر وہ ہیرے اور جو ہرات صدقہ میں دیئے گئے۔یہ سب کچھ اسی وجہ سے تھا کہ ان کے باپ دادوں نے کسی وقت قربانیاں کی تھیں۔بعد میں آنے والے کہتے ہیں کہ یہ بڑے کیوں ہیں۔لیکن وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ اس کے باپ دادوں نے اسے بڑا بنایا ہے۔انہوں نے خدا تعالیٰ کی خاطر دنیا چھوڑ دی اور خدا تعالیٰ نے دنیا اس کی اولاد کے قدموں میں ڈال دی۔جس طرح ایک پیج سے بعض دفعہ جنگل کھڑا ہو جاتا ہے اسی طرح ان کی کسی وقت کی کی ہوئی قربانی پھل لائی اور اس کے خاندان کو اس طرح اوپر اٹھایا کہ دوسری قو میں اس پر رشک کرنے لگیں۔ہاں قربانی کرنے والوں کو بدلہ ان کے مرنے کے بعد ملتا ہے اور نسلی انعام دس پندرہ سال بلکہ پانچ پانچ چھ چھ پشتوں کے بعد ملتا ہے۔آجکل کے سید نے کچھ نہیں کیا ، اسے جو کچھ ملا ہے اس کے دادے پڑ دا دے کی قربانی کے نتیجہ میں ملا ہے۔اگر تم بھی قربانی کرو گے تو تمہاری آنے والی نسلیں بھی معزز ہوں گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک راجپوت جسے کھانے کو نہیں ملتا ، اسے پہنے کو لباس نہیں ملتا وہ پھٹی پرانی لنگوٹی پہنے ہوئے ہوتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ایک جلا ہا کم خواب پہنتا ہے اور روپے پیسے کی اس کے پاس کمی نہیں۔لیکن اگر وہ اس راجپوت سے کہتا ہے کہ مجھے اپنی بیٹی دے دو تو وہ اسے اپنی ہتک سمجھتا ہے۔اب اس راجپوت نے کچھ نہیں کیا ، اسے جو