زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 212
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 212 جلد چهارم يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَتَّى لَا يَمُوتُ 4 لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اسے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ اب بھی زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔پس جو شخص جگہوں کا خیال کرتا ہے اس کا ٹھکانا کہیں نہیں۔وہ آج بھی گیا اور کل بھی گیا۔لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کے منشا اور اس کی خاطر کسی جگہ سے محبت کرتے ہیں تو وہ ہمیں کسی مصلحت کے ماتحت اس جگہ سے باہر رکھے تو ہمارا باہر رہنا بھی اس کی رضا کا موجب ہوگا۔کہنے والے کہا کرتے ہیں کہ ہم نے قادیان کو مکہ کی جگہ اپنا مرکز بنا لیا ہے۔یہودی بھی کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں نے بیت المقدس کی جگہ مکہ بنا لیا ہے۔ہندو یہودیوں کو کہا کرتے تھے کہ انہوں نے ہر دوار کی جگہ بیت المقدس بنا لیا ہے۔کہنے والے ایسا کہا ہی کرتے ہیں لیکن مومن بینگن کا نوکر نہیں بلکہ راجہ کا نوکر ہوتا ہے۔مومن کی نظر ہمیشہ اس طرف جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کیا کہتا ہے۔کتنے ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم کل تک زندہ رہیں گے۔انسان مرتا ہے اور موت ایسی چیز ہے جو اس کے ساتھ ہمیشہ لگی ہوئی ہے۔کہاں ہیں ہمارے باپ دادے؟ وہ ہم سے دنیوی شانوں میں کہیں بڑھ کر تھے۔ان میں سے بعض دینی شانوں میں بھی ہم سے بڑھ کر تھے۔رسول کریم ﷺ کہاں ہیں ؟ موسیٰ علیہ السلام کہاں ہیں؟ عیسی علیہ السلام کہاں ہیں؟ ابراہیم اور نوح یھم السلام کہاں ہیں؟ فوت ہو گئے۔اسی طرح ایک دن ہم بھی فوت ہو جائیں گے۔کئی لوگ ایسے ہیں جن کے متعلق تو تم یہ خیال کرتے ہو کہ اگر یہ لوگ مرگئے تو کیا ہوگا۔لیکن سو سال کے بعد بعض اور لوگ ایسے پیدا ہو جائیں گے جن کے متعلق اُس وقت کے لوگ کہیں گے کہ اگر یہ مر گئے تو ہم کیا کریں گے۔قائد اعظم محمد علی جناح جب زندہ تھے تو لوگ کہتے تھے اگر یہ مر گئے تو کیا ہوگا۔آج سے چار پانچ سو سال پہلے مسلمان بادشاہ جس شان سے آئے قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح کا ان سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔قائد اعظم کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو بچا کر حفاظت کے ایک کو نہ میں لے آئے۔لیکن وہ مسلمان بادشاہ خیبر سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے سندھ سے بہار تک اور بہار سے برما تک قابض ہو گئے۔ان کے زمانہ میں بھی