زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 192

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 192 جلد چهارم نہ ہو تو شاید ایک دفعہ بھی اسے خیال نہ گزرے گا کہ اس کے بازو کا کوئی جوڑ بھی ہے اور وہ اپنی جگہ پر صحیح طور پر جڑا ہوا ہے اور اپنے مقررہ کام کو اچھی طرح ادا کر رہا ہے کیونکہ ہم آہنگی سکون کو پیدا کرتی ہے۔لیکن فکر میں ہیجان پیدا نہیں کرتی۔پس زندگی در حقیقت تغیرات کا نام ہے۔کوئی ترقی بغیر تغیر کے نہیں۔منزل بہ منزل آگے کو بڑھنا یعنی مختلف نیک تغیرات کے سلسلہ میں سے گزرنا ہی ترقی کی تعریف ہے۔خدا تعالیٰ ازلی ابدی صداقت ہے۔ذات کے لحاظ سے وہ غیر متبدل بھی کہلاتا ہے لیکن صفات کے لحاظ سے وہ بھی غیر متناہی تغیرات اور تبدیلیوں کا حامل ہے۔اگر اس کی صفات کے ظہور میں تغیر اور تنوع نہ ہوتا تو وہ ایک منفی خدا ہوتا۔جیسا کہ ہندوؤں اور بدھوں کا تصور ہے۔وہ ایک مثبت خدا نہ ہوتا جیسا کہ قرآن کریم کا نظریہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ 1 خدا تعالی | ہر زمانہ میں ایک نئی اور اہم حالت میں ہوتا ہے۔پس بتاؤ تو سہی کہ تم خدا تعالیٰ کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔ان آیات میں نہایت وضاحت سے صفات الہیہ کے مثبت پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور انسانی ترقی کی ایک جامع مانع تعریف کر دی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کا زاویہ انسانوں کی طرف ہر وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ ظہور صفات سے ہم آہنگی قائم رکھنے کے لئے انسان کو زاویہ بدلنا پڑے گا۔گھوڑے کو سدھانے والا ایک چکر میں کھڑا ہو جاتا ہے اور گھوڑے کی رسی پکڑ کر خود چاروں طرف گھومتا ہے ، گھوڑے کو بھی اس کے ساتھ گھومنا پڑتا ہے۔مرکزی شے کے گھومنے کا دائرہ بہت چھوٹا بلکہ عین مرکز میں صفر کے برابر ہوتا ہے مگر پہلوؤں پر کھڑے ہوئے گھوڑے کو رسی کے برابر لمبا فاصلہ طے کر کے چاروں طرف دوڑنا پڑتا ہے اور اس میں اس کے فن میں کمال پیدا کرنے کا راز مخفی ہے۔خدا تعالیٰ اپنا پہلو ہر وقت بدلتا ہے۔انسان کو اس کے پہلو بدلنے کے ساتھ اپنا قدم بڑھانا پڑتا ہے تا خدا تعالیٰ سے ہم آہنگی قائم رہے۔یہ تغیر خدا تعالیٰ کے ساتھ انسانی تعلق میں تغیر پیدا نہ ہونے دینے کے لئے ضروری ہے اور اس کی