زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 178
زریں ہدایات (برائے طلباء) 178 جلد چهارم نوجوان کا فرض ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے تا وہ اپنے مذہب اور اپنی قوم کے لئے زیادہ مفید وجود بن سکے۔اول تو یہ کوشش کریں کہ اچھے سے اچھے نمبروں پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں پاس ہو سکیں۔پھر جو پاس ہوں وہ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ کالج میں داخل ہو کر کالج کی تعلیم حاصل کریں۔اور پھر دوسری چیز جو زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ تم میں زیادہ سے زیادہ ایسے لوگ پیدا ہوں جو اپنے آپ کو قوم کی خدمت کے لئے پیش کریں۔اس وقت ہماری جماعت ایسے مقام پر ہے کہ اس کا نظام پہلے سے بہت زیادہ وسیع ہونا چاہتا ہے اور ہو رہا ہے۔" ہونا چاہتا ہے" سے مراد یہ ہے کہ اس وقت اس نظام پر پھیلنے کے لئے اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔اگر ہم اس کو روکیں تو یقیناً ہمارا نظام ٹوٹ کر رہ جائے گا لیکن اس کے لئے ہمیں آدمی کم مل رہے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری جماعت میں اتنی تعلیم نہیں جتنا ہماری جماعت میں پھیلاؤ ہے۔جب پھیلاؤ کے مطابق تعلیم نہیں ہوتی تو قوم ٹوٹ جاتی ہے یا اس قوم کا قدم ترقی کی دوڑ میں رک جاتا ہے۔اگر ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کرنی ہے تو ہمارے مبلغ بھی زیادہ ہوں گے اور ہمارے دفتر بھی بڑھیں گے۔اور جتنے مبلغ زیادہ ہوں گے اتنا ہی مرکز کا عملہ بھی بڑھ جائے گا۔لیکن اگر تعلیم زیادہ نہ ہوگی ، اگر تعلیم حاصل کرنے والے اپنی زندگی دین کے لئے وقف نہ کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ یا مبلغین کم رہ جائیں گے جس سے اسلام کو نقصان پہنچے گا یا اگر مبلغین پورے ہوں گے اور وہ تبلیغ کے لئے باہر چلے جائیں گے تو آدمیوں کی کمی کی وجہ سے مرکز میں کم آدمی رہ جائیں گے اور مرکز کو نقصان پہنچے گا۔پس تم میں سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگیاں وقف کریں تا ہماری جماعت کا پھیلاؤ آئندہ مرکز کے ساتھ اپنے رشتہ کو قائم رکھ سکے۔اگر بیرون جات میں پھیلاؤ زیادہ ہے اور مرکز چھوٹا ہے یا مرکز پھیلتا چلا جا رہا ہے لیکن بیرون جات میں تبلیغ کا دائرہ وسیع نہیں تو دونوں صورتوں میں جماعت ٹوٹ جاتی ہے۔وہ آدمی عقلمند نہیں ہوتا جس کا جسم کامل انسان جیسا ہو لیکن سر چھوٹا سا ہو جیسے ” شاہ دولے کا چوہا ہوتا ہے۔تم میں سے بہتوں