زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 177

زریں ہدایات (برائے طلباء) 177 جلد چهارم سکتی ہے۔بلکہ عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے تم اپنی قوم کو زندہ کر سکتے اور زندہ رکھ سکتے ہو۔پس عمل کر کے دکھلاؤ۔اگر تم صرف زندہ باد کے نعرے لگاتے رہو گے اور عمل نہیں کرو گے تو موت اور ہلاکت کے سوا تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔پس اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی کوشش کرو۔بچوں کا کام کھیل کو د ہوتا ہے اور ہم کھیل کو د سے تم کو منع نہیں کرتے۔لیکن ایسی باتیں نہ کرو جن کے خلاف رات دن تمہارا عمل ہوتا ہے۔اگر فٹ بال، کرکٹ ، ہاکی، والی بال کھیلتے ہو تو یہ کھیلیں تمہاری صحت کے لئے مفید ہیں۔تمہاری مذہبی ذمہ داریوں کے خلاف نہیں اور نہ تمہاری دنیوی ذمہ داریوں کے خلاف ہیں۔لیکن تمہارا وہ نعرہ تکبیر جو بظاہر نیکی معلوم ہوتا ہے اور تمہارا زندہ باد کہنا جو بظاہر نیکی معلوم ہوتا ہے اور جو فٹ بال یا کرکٹ یا والی بال کے مقابلہ میں ایک جاندار چیز ہے وہ یقینا تمہاری روحانیت کو مارنے والا ہے اگر اس کے مطابق تمہارا عمل نہیں۔فٹ بال کسی صورت میں بھی تمہاری روحانیت میں رخنہ نہیں ڈالتا مگر تمہارا اللہ اکبر کا نعرہ یقیناً قومی ترقی پر اثر ڈالتا ہے۔اگر تمہاری زبان پر الله اَكْبَرُ ہے اور تمہارا ایمان بجائے اللهُ أَكْبَرُ کے لات و منات کو اکبر کہہ رہا ہے، اگر تم اپنے عمل سے غداری کر رہے ہو اور اگر تم ترقی کے راستہ پر گامزن نہیں ہو رہے اور اگر تم اپنی قوم کی ترقی کے لئے کوشش نہیں کر رہے تو تمہارا یہ نعرہ تکبیر تمہارے دل پر زنگ لگانے والا ہے۔اور دنیا کی نگاہوں میں بھی اور اپنی نگاہوں میں بھی اور خدا تعالیٰ کی نگاہوں میں بھی جو تمام خفیہ رازوں سے واقف ہے تم مجرم بنتے ہو۔پس اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرو کہ اپنی قوم کے لئے مفید بن سکو۔تم میں سے جنہیں تو فیق مل سکے ان کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں ( مدرسے کی تعلیم کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ یہ ابتدائی تعلیم ہے) ہمارے بعض نو جوان تعلیم سے بچنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو نوکریاں کرنی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نو جوانوں کا فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کی ذمہ داریوں کو اٹھائیں اور ان کے بوجھ کو ہلکا کریں لیکن اگر ان کے ماں باپ اس بوجھ کو اٹھا سکیں تو پھر ہر ایک