زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 168

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 168 جلد چهارم ہے۔مگر یہ بات اسی صورت میں صحیح سمجھی جاسکتی ہے کہ پہلے ہمارے سکول کا نتیجہ اگر 60 اور 70 فیصدی کے درمیان تھا تو اب 70 اور 80 فیصدی یا 80 اور 90 فیصدی کے درمیان پہنچ جائے اور دو تین سالوں تک 100 فیصدی پر پہنچ جائے۔اسی طرح نتائج معیار قابلیت کے لحاظ سے آگے سے اعلیٰ ہو جائیں یعنی اگر پہلے تھرڈ ڈویژن میں زیادہ لڑکے پاس ہوتے تھے تو اب سیکنڈ ڈویژن میں زیادہ پاس ہوں اور پھر فرسٹ ڈویژن میں زیادہ ہوں اور پھر آہستہ آہستہ تھرڈ اور سیکنڈ ڈویژن بالکل ختم ہو جائے اور سب فرسٹ ڈویژن میں پاس ہونے لگ جائیں۔یہ چیز ہے جو ہمیں مطمئن کر سکتی ہے اور تسلی دلا سکتی ہے کہ ہمارے سکول کے طالب علم پہلے کی نسبت ترقی کر رہے ہیں۔یہ ظاہر بات ہے کہ قوم کا بوجھ ہمیشہ تعلیم یافتہ لوگوں پر ہی پڑا کرتا ہے۔صلى الله اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم دنیا کے سامنے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ ہمارے مذہب کے بانی محمد رسول اللہ ہی یہ امی تھے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ جماعت کے تمام افراد کو اُمّی ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اگر معجزانہ رنگ میں ایک چیز دکھاتا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ معجزہ ہر فرد کے لئے ظاہر کرتا ہے۔معجزے کے تو معنے ہی یہی ہیں کہ باقی دنیا اس کی مثال لانے سے محروم ہے۔اگر رسول کریم ﷺ نے امی ہو کر دنیا کی اصلاح کرلی تو اس کا دوسرے لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ دنیا میں اُمی لوگ وہ کام نہیں کر سکتے جو رسول کریم نے کیا۔یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ امی لوگ دنیا کی اصلاح کر سکتے ہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُمّی لوگ نہیں کر سکتے۔اگر خدا تعالیٰ ایک اُمّی سے یہ کام کرا لے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ خدا تعالیٰ ہر اُمّی سے اس طرح کام کرا لے گا۔کیونکہ معجزہ ہر انسان کے ذریعہ نہیں دکھلایا جاتا۔خدا تعالیٰ بعض معجزات بعض افراد کے ذریعہ دکھلاتا ہے اور باقی افراد کو اپنی کوششوں سے اس معیار پر آنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔جو چیزیں انبیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزانہ طور پر ملتی ہیں باقی لوگوں کو محنت سے حاصل کرنی ہوتی ہیں۔پس رسول کریم ﷺ کا اُمی ہونا یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علوم مروجہ