زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 160
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 160 جلد چهارم وہ بے ساختہ رونے لگ گیا۔اور کہا میں جانتا ہوں مگر مجھ سے رہا نہیں گیا کیونکہ میں فتنہ کے آثار دیکھ رہا ہوں۔حضرت خلیفہ اسی الاول کی حالت نازک ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی آنکھیں بند ہوتے ہی قابو یافتہ لوگ نظام سلسلہ کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔اس وجہ سے میں نے بیعت کے لئے کہا ہے۔یہ سات آٹھ دن حضرت خلیفہ امسیح الاول کی وفات سے پہلے کا واقعہ ہے۔وہ میرا گہرا دوست تھا اور چند ہی گہرے دوستوں میں سے تھا۔اس نے اس جوش سے مصافحہ کیا اور یہ جانتے ہوئے کہ خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے کا ذکر کرنا جائز نہیں بے تاب ہو کر کیا اور روتے ہوئے کہا کہ اسے میری بیعت سمجھیں۔مگر حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے بعد جماعت نے جب یہ فیصلہ کیا کہ خلافت کو قائم رکھیں گے اور خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ اس فیصلہ کے مطابق جو قرآن اور اسلام کے رو سے درست ثابت ہے میں جماعت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لوں تو تیسرے ہی دن اس کی طرف سے تار پہنچا که فوراً مولوی محمد علی وغیرہ سے صلح کر لو ورنہ انجام اچھا نہ ہو گا۔اس سے قیاس کرلو کہ وہ کیسے ہیجان کا زمانہ تھا۔جو شخص آٹھ ہی دن پہلے میرا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہ اسے میری بیعت سمجھو اور میں اسے ملامت کرتا ہوں کہ تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہئے وہی آٹھ دن بعد مجھے کہتا ہے کہ تم نے غلطی کی ہے فورا مولوی محمد علی صاحب سے صلح کر لو ورنہ تمہارا انجام اچھا نہ ہو گا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ ایک شخص رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کا فراٹھے گا اور ایک شخص رات کو کا فرسوئے گا اور صبح کو مومن اٹھے گا وہ بات پیدا ہوگئی تھی۔صلى تو آج آپ لوگ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ دن کیسے خطر ناک تھے اور خدا تعالیٰ نے کس قسم کے فتنوں میں سے جماعت کو گزارا۔اُس حالت کا آج کی حالت سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔اگر وہی جوش اور وہی اخلاص جو اُس وقت جماعت میں تھا آج بھی آپ لوگوں میں ہو تو یقینا تم پہاڑوں کو ہلا سکتے ہو۔اُس وقت جماعت کے لوگ بہت تھوڑے