زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 159
زریں ہدایات (برائے طلباء) 159 جلد چهارم پڑتے زیادہ سے زیادہ دس سال تک ٹھہریں گے پھر یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور احمدیوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔اُس وقت اس شخص کو جس کی عمر 25 سال تھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بات کا فیصلہ کرنے کی توفیق ملی کہ خواہ حالات کچھ بھی ہوں اُس جھنڈا کو کھڑا رکھے گا جس کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کھڑا کیا ہے۔آج آپ لوگ اُن پندرہ دنوں کی حالت کا اندازہ نہیں کر سکتے جو 14 مارچ 1914ء کے بعد آئے اور یہ کہ جماعت کو اُس وقت کتنا بڑا ابتلاء پیش آیا تھا۔بیرون جات سے تاریں اور خطوط آئے کہ جب اکابرین جماعت دوسری طرف چلے گئے ہیں تو قادیان والوں کو ان کے خلاف فیصلہ کرنے کا کس نے اختیار دیا تھا۔اور سب سے عجیب واقعہ میں آپ لوگوں کو سناؤں۔حضرت خلیفہ امسح الاول کی وفات سے چند دن پہلے ایک پروفیسر تھا جو ایم۔اے تھا۔میرا گہرا دوست اور حضرت خلیفہ امسح الاول کا مقبول شاگرد۔اس کے والد سے جو جموں میں حج تھا حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی ذاتی دوستی تھی۔وہ خود بھی احمدیت میں اخلاص رکھتا تھا اور میرا دوست ہونے کی وجہ سے میرا ہم سبق بھی بن جایا کرتا تھا۔اور حضرت خلیفہ امسیح الاول کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔جب اسے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیماری کی اطلاع پہنچی تو وہ یہاں آیا اور تین چار روز یہاں رہا۔مسجد مبارک میں آنے کے لئے ہمارے گھر کا ایک دروازہ ہوتا تھا جو سیٹرھیوں کے اندر کھلتا تھا۔ایک دن اس پر آکر اس نے دستک دی اور میں باہر نکلا۔اس نے میرا ہاتھ نهایت گرم جوشی سے پکڑ لیا اور رقت سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اس نے کہا مجھے اور چھٹی نہیں مل سکتی اس لئے میں واپس علی گڑھ جا رہا ہوں۔آپ اس مصافحہ کو میری بیعت سمجھیں۔میں نے کہا (اس کا نام تیمور تھا اور اب ایک کالج کا وائس پرنسپل ہے) تیمور! تمہارا حضرت خلیفہ المسیح الاول سے کتنا گہرا تعلق ہے اور تم ان سے سنتے رہے ہو کہ خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے کا ذکر کرنا گناہ ہے۔تم بجائے اس کے کہ اچھا نمونہ دکھاتے بہت برا نمونہ پیش کر رہے ہو۔میرے یہ کہنے پر اسے اور بھی رقت آ گئی اور