زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 158
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 158 جلد چهارم اداروں پر قبضہ رکھنے والے لوگ ایک ساعت میں جب جماعت سے الگ ہو کر کھڑے ہو گئے تھے تو اُس وقت جماعت اس رقم سے زیادہ مقروض تھی۔یہ سولہ ہزار کی رقم ہے مگر اُس وقت اٹھارہ ہزار کچھ سو کا قرض جماعت پر تھا۔اُس وقت کی قادیان آج والی قادیان نہ تھی۔جتنے محلے قصبہ سے باہر آج آباد نظر آتے ہیں ان میں سے کوئی بھی نہ تھا۔قادیان کی آبادی اُس وقت قریباً قریباً اتنی ہی ہوگی جتنی اس وقت کالج اور اس کے متعلقین کی تعداد ہے۔قصبہ کے باہر جتنے مکانات نظر آتے ہیں سوائے سکول کے اور سوائے مسجد نور اور مولوی محمد علی صاحب کی اس کوٹھی کے جس کی طرف سپر نٹنڈنٹ صاحب نے اشارہ کیا ہے باقی تمام جنگل ہی جنگل تھا۔اُس وقت یہ سوال جماعت کے سامنے آیا کہ کیا اپنے اصول پر قائم رہ کر ا کا برین جماعت کا مقابلہ کریں یا ان سے ڈر کر ہتھیار رکھ دیں۔اُس وقت اس فیصلہ کا انحصار ایک ایسے شخص پر تھا جس کی عمر کالج کے بہت۔پروفیسروں سے کم تھی۔جس کی حیثیت موجودہ کالج کے بہت سے پروفیسروں سے بہت کم تھی۔جس کا علم جہاں تک دنیوی علوم کا تعلق ہے کالج کے ہر طالب علم سے کم تھا۔صرف اس ایک انسان کے ذمہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا ان تمام ذمہ داریوں کے ہوتے ہوئے ، آیا ان تمام بوجھوں کے ہوتے ہوئے اور آیا ان تمام کمزوریوں کے ہوتے ہوئے جبکہ جماعت کے تمام اکا بر خلاف کھڑے ہو گئے تھے ، جبکہ بہت سی بیرونی جماعتوں میں ابتلا آچکا تھا، جبکہ جماعت کے لوگوں میں یہ خیال پیدا کر دیا گیا تھا کہ قادیان کے لوگ سلسلہ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور بہت بڑے فتنہ کی بنیاد رکھ رہے ہیں اس وقت ان کا مقابلہ کرنا چاہئے یا ان کے سامنے ہتھیار رکھ دینے چاہئیں۔وہ اکا بر جو سلسلہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے ان کا اندازہ اس وقت کی حالت کی نسبت کیا تھا۔اس کی طرف سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اپنے ایڈریس میں اشارہ کیا ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا اثر اور رسوخ اتنا زیادہ ہے اور ہمارے مقابلہ میں کھڑے ہونے والے تعداد میں علم میں ، ساز و سامان میں اور اثر و رسوخ میں اتنے کمزور ہیں کہ اگر ہمارے مقابلہ میں کھڑے ہوئے تو گرتے