زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 141
زریں ہدایات (برائے طلباء) 141 جلد چهارم ہے ایک تھیوری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ان کو ماننے والا کہہ سکتا ہے کہ شاید یہ غلط ہوں یا شاید یہ صیح ہوں۔اسے قطعی اور یقینی وثوق ان علوم کی سچائی پر نہیں ہوسکتا۔لیکن ہمیں خدا تعالیٰ کی ذات پر جو یقین ہے وہ ہر قسم کے شبہات سے بالا تر ہے۔وہ یقین ایسا ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اے خدا ! میں سورج کا انکار کر سکتا ہوں، میں اپنے وجود کا انکار کر سکتا ہوں مگر جس طرح تو مجھ پر ظاہر ہوا ہے میں اس کا کبھی انکار نہیں کر سکتا۔یہ وہ یقین ہے جو خدا پر ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتا ہے۔مگر کیا ایسا یقین کسی سائنسدان کو اپنے کسی سائنس کے مسئلہ کی سچائی پر ہوسکتا ہے یا کیا ایسا یقین کسی حساب دان کو اپنے حساب کے کسی مسئلہ کی سچائی پر ہو سکتا ہے؟ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ حساب قطعی اور یقینی چیز ہے مگر اب نئی دریافتیں ایسی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے حساب کے متعلق بھی شبہات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔مگر حساب سے عام سودے والا حساب مراد نہیں بلکہ وہ حساب مراد ہے جو فلسفہ کی حد تک پہنچا ہوا ہے اور فلسفہ خود مشکوک ہوتا ہے۔ہر زمانہ میں جو فلاسفر ظاہر ہوتا ہے اُس کے علوم کا انکار کرنے والا علوم جدیدہ کا منکر قرار دیا جاتا ہے۔لیکن ابھی پچاس ساٹھ سال نہیں گزرتے کہ ایک اور فلسفی کھڑا ہو جاتا ہے جو اس پہلے فلاسفر کی تحقیق کو غلط قرار دے دیتا اور نئے نظریات پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔اُس وقت جولوگ اُس کے نظریات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں لوگ ان کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ علوم جدیدہ کے منکر ہیں۔مگر پچاس ساٹھ سال نہیں گزرتے کہ ایک اور فلاسفر اس تحقیق کو قدیم تحقیق قرار دے کر ایک نئی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے اور پہلی تحقیقات کو غلط قرار دے دیتا ہے۔کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ خدا کا وجود بھی غلط قرار دیا گیا ہو؟ یا کبھی کوئی نبی ایسا کھڑا ہوا ہو جس نے کہا ہو کہ خدا کے متعلق لوگوں کے دلوں میں جو خیال پایا جاتا تھا وہ موجودہ تحقیق نے غلط ثابت کر دیا ہے ؟ آدم سے لے کر اب تک ہمیشہ ایسے وجود آتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ سے دنیا کے سامنے یہ حقیقت پیش کی کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے اور پھر دلائل و براہین سے اُس کے