زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 140
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 140 جلد چهارم کریں خدا بغیر سائنس کے بھی انسان کومل جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھ لو آپ نے نہ فلسفہ پڑھا، نہ سائنس پڑھی ، نہ حساب پڑھا ، نہ کوئی اور علم سیکھا مگر پھر بھی خدا آپ سے اس طرح بولا کہ آج تک نہ کسی سائنسدان کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے ، نہ کسی حساب دان کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے ، نہ کسی فلسفی کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نہ یہ فلسفہ پڑھا، نہ یہ سائنس پڑھی، نہ یہ حساب پڑھا لیکن جس رنگ میں خدا نے آپ سے کلام کیا وہ نہ کسی فلسفے والے کو نصیب ہوا ، نہ کسی سائنس والے کو نصیب ہوا، نہ کسی حساب والے کو نصیب ہوا۔اسی طرح اب میرے ساتھ جس طرح خدا متواتر کلام کرتا اور اپنے غیب کی خبریں مجھ پر ظاہر فرماتا ہے یہ نہ سائنس کا نتیجہ ہے، نہ فلسفے کا نتیجہ ہے، نہ حساب کا نتیجہ ہے کیونکہ میں نے نہ سائنس پڑھی ہے ، نہ فلسفہ پڑھا ہے، نہ حساب پڑھا ہے۔تو ہمیں کسی سائنس یا فلسفہ یا حساب کی مدد کی ضرورت نہیں بلکہ وہ لوگ جو دن رات ان علوم میں محو رہتے ہیں ان میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے کہ اگر ہم اُس کے سامنے اپنے الہامات پیش کریں اور وہ ان پر غور کرے تو ہمیں امید ہے کہ وہ سمجھ جائے گا۔جیسے پروفیسر مولر جب میرے پاس آیا اور میں نے اُس سے سنجیدگی کے ساتھ باتیں کیں تو وہ حقیقت کو سمجھ گیا۔یہ معلوم نہیں تھا کہ واقعہ میں مجھے قبل از وقت الہام کے ذریعہ کئی خبریں دی گئی تھیں جو اپنے وقت پر پوری ہوئیں اس وجہ سے اُس کی راہ میں مشکلات تھیں لیکن اُس نے اتنا ضرور تسلیم کر لیا کہ اگر الہام ثابت ہو جائے تو پھر یہ مان لینا پڑے گا کہ جس تھیوری کو میں پیش کرتا ہوں وہ غلط ہے۔جب اُس نے الہام کا امکان تسلیم کرتے ہوئے اپنی تھیوری کو غلط مان لیا تو وہ جن کے سامنے الہام پورے ہوتے ہیں وہ ایسی تھیوری کو کب مان سکتے ہیں۔وہ تو ایسے ہی خدا کو مان سکتے ہیں جو قادر ہے، کریم ہے، مہیمن ہے ، عزیز ہے، سمیع ہے، مجیب ہے ، حفیظ ہے اسی طرح اور کئی صفات حسنہ کا مالک ہے۔اپنی آنکھوں دیکھی چیز کو کون رو کر سکتا ہے۔تو سائنس بھی اور فلسفہ بھی اور حساب بھی جہاں تک خدا کا تعلق