زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 139

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 139 جلد چهارم اور کتوں کا خدا کوئی اور ہے، یہ خود اپنی ذات میں خدا نہیں ہیں۔کیونکہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مرکز کے ذریعہ کسی کو کوئی خبر قبل از وقت نہیں پہنچ سکتی۔لیکن میں اپنے تجربہ سے جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوتا ہے جو کئی قسم کی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتا ہے۔پس آپ بے شک اس مرکز کو ہی خدا مان لیں لیکن ہم تو ایک علیم وخبیر ہستی کو خدا کہتے ہیں۔اُس کے اندر قدرت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر جلال بھی ہوتا ہے، اُس کے اندر جمال بھی ہوتا ہے، اُس کے اندر علم بھی ہوتا ہے، اس کے اندر حکمت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر بسط کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندرخمی ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر سمیت ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر حلیم ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر میمن ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر واسع ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔غرض بیسیوں قسم کی صفات ہیں جو اُس کے اندر پائی جاتی ہیں۔اسی طرح اُس کا نور ہونا ، اُس کا وہاب ہونا، اُس کا شکور ہونا، اُس کا غفور ہونا ، اُس کا رحیم ہونا، اُس کا ودود ہونا ، اُس کا کریم ہونا ، اُس کا ستار ہونا اور اسی طرح اور کئی صفات کا اُس کے اندر پایا جانا ہم تسلیم کرتے ہیں۔کیا یہ صفات اس مرکز میں بھی پائی جاتی ہیں جس کو آپ خدا کہتے ہیں؟ جب ایک طرف اس کے اندر یہ صفات نہیں پائی جاتیں اور دوسری طرف ہم پر ایک ایسی ہستی کی طرف سے الہام نازل ہوتا ہے جس میں یہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو اپنی ان صفات کو اپنے کلام کے ذریعہ دنیا پر ظاہر کرتا ہے اور باوجود اس کے کہ ساری دنیا مخالفت کرتی ہے پھر بھی اُس کا کلام پورا ہو جاتا ہے اور جو کچھ اُس نے کہا ہوتا ہے وہی کچھ دنیا کو دیکھنا پڑتا ہے تو اس ذاتی مشاہدہ کے بعد ہم آپ کی تھیوری کو کس طرح مان سکتے ہیں۔اس پر وہ کہنے لگا اگر یہ باتیں درست ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ یہ تھیوری باطل ہے۔اس کلام کے ہوتے ہوئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی ایسا خدا نہیں جس کے تابع یہ تمام مرکز ہو۔تو مذہب کے لحاظ سے ہم ان چیزوں کے محتاج نہیں ہیں۔ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم سائنس کے علوم کی مدد سے خدا تعالیٰ کو حاصل