زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 138
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 138 جلد چهارم کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے جب مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور نیویارک کے بعض اور پروفیسر بھی تحقیقات کر کے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس ساری یو نیورس کا ایک مرکز ہے۔اس مرکز کا انہوں نے نام بھی لیا تھا جو مجھے صحیح طور پر یاد نہیں رہا۔اُنہوں نے بتایا کہ سارے نظامِ عالم کا فلاں مرکز ہے جس کے گرد یہ سورج اور اس کے علاوہ اور لاکھوں کروڑوں سورج چکر لگا رہے ہیں اور انہوں نے کہا میری تھیوری یہ ہے کہ یہی مرکز خدا ہے۔گویا اس تحقیق کے ذریعہ ہم خدا کے بھی قائل ہیں۔یہ نہیں کہ ہم دہریت کی طرف مائل ہو گئے ہوں۔پہلے سائنس خدا تعالیٰ کے وجود کو رڈ کرتی تھی مگر اب ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اس سارے نظام کا ایک مرکز ہے جو حکومت کر رہا ہے اور وہی مرکز خدا ہے۔میں نے کہا نظام عالم کے ایک مرکز کے متعلق آپ کی جو تحقیق ہے مجھے اس پر اعتراض نہیں۔قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ دنیا ایک نظام کے ماتحت ہے اور اس کا ایک مرکز ہے۔مگر آپ کا یہ کہنا کہ وہی مرکز خدا ہے درست نہیں۔میں نے اُن سے کہا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامات نازل ہوتے ہیں اور کئی ایسی باتیں ہیں جو اپنے کلام اور الہام کے ذریعہ وہ مجھے قبل از وقت بتا دیتا ہے۔آپ بتائیں کہ کیا آپ جس مرکز کو خدا کہتے ہیں وہ بھی کسی پر الہام نازل کر سکتا ہے؟ وہ کہنے لگے الہام تو نازل نہیں کر سکتا۔میں نے کہا تو پھر میں کس طرح تسلیم کرلوں کہ وہی مرکز خدا ہے۔مجھے تو ذاتی طور پر اس بات کا علم ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے اور وہ باتیں اپنے وقت پر پوری ہو جاتی ہیں۔کوئی بات چھ مہینے کے بعد پوری ہو جاتی ہے، کوئی سال کے بعد پوری ہو جاتی ہے، کوئی دو سال کے بعد پوری ہو جاتی ہے اور اس طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ مجھ پر جو الہام نازل ہوتا ہے خدا کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔پھر میں نے انہیں مثال دی اور کہا آپ مجھے بتائیں کیا آپ کا وہ کرہ جسے آپ خدا قرار دیتے ہیں کسی کو یہ بتا سکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے انگلستان کی مدد کے لئے اٹھائیس سو ہوائی جہاز بھیجوایا جائے گا ؟ وہ کہنے لگے اس کرہ سے تو کوئی ایسی بات کسی کو نہیں بتائی جاسکتی۔میں نے کہا تو پھر ماننا پڑے گا کہ اس کتے کا اور اسی طرح