زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 131
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 131 جلد چهارم بتایا گیا ہے کہ 137 بورڈ رز ہیں۔مگر یہ ترقی ہمارے لئے خوشی کا موجب نہیں ہو سکتی جب تک تعداد کی ترقی کے ساتھ عملی ترقی نہ ہو۔“ عملی ترقی کی تشریح میں فرمایا :۔جو غرض تحریک جدید کی ہے اور جو باہر سے آ کر یہاں پڑھنے والوں کی ہے وہ معمولی نہیں بلکہ بہت بڑی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ہم ایسے سپاہی تیار کریں جو اسلام کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہیں اور ہر میدان میں اسلام کی طرف سے لڑیں۔مخالفین اسلام کے پر خچے اڑا دینے اور دشمن کو ریزہ ریزہ کر دینے کے الفاظ کافی نہیں ہو سکتے۔اگر کافی ہو سکتے ہیں تو ایسے زندہ انسان جن کے جسم کے ذرہ ذرہ میں وہ لہریں پیدا ہو رہی ہوں جو انہیں اسلام کی جنگ کی طرف لے جارہی ہوں اور اسلام کو غلبہ دلانے کے لئے بے تاب 66 کر رہی ہوں۔“ پھر فرمایا:۔" تم یہ مت خیال کرو کہ ہم طالب علم ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔دراصل یہی وہ زمانہ ہے جس میں کی ہوئی تیاری بعد کی زندگی میں مفید ثابت ہوتی ہے اور یہی وہ زندگی ہے جس میں آئندہ کام کرنے کے لئے جوش اور ولولہ پیدا کیا جاتا ہے۔تم میں چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی۔وہ عمر جو چھوٹوں کی ہے وہ بھی ہم پر گزری ہے۔اور وہ عمر جو بڑوں کی ہے وہ بھی ہم پر گزری ہے۔اسی عمر میں اسلام کی خدمت کا ہم میں ایسا جوش پایا جاتا تھا کہ اُس وقت ہم بڑوں کی امداد کے محتاج نہ ہوتے تھے۔“ اس کے بعد حضور نے بتایا کہ کس طرح 16 سال کی عمر میں حضور نے مع چند اور ساتھیوں کے خدمتِ اسلام کے لئے ایک رسالہ جاری کیا اور کس طرح خود ہی کوشش کر کے بغیر بڑوں کی کسی قسم کی امداد کے اس میں کامیابی حاصل کی اور رسالہ کو نہایت مفید بنایا۔پھر فرمایا:۔ہم اس عمر میں بھی آزاد رائے رکھنے والے لوگ تھے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ