زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 117
زریں ہدایات (برائے طلباء) 117 جلد چهارم موقع ہے کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ایک طالب علم نے زبانی ایسی تقریر کی جس سے میں متاثر ہوا۔میں امید کرتا ہوں کہ اس سلسلہ کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ ایک دو طالب علموں کو سامنے رکھ کر اپنی کوشش کا ثبوت دیا جائے اس طرح جماعتیں نہیں بنا کرتیں اور نہ ترقی کر سکتی ہیں البتہ نمائش کی جاسکتی ہے۔پس یہ غلط ہے کہ ہر شخص لیکچرار اور مصنف نہیں ہوسکتا، ہو سکتا ہے۔ہاں ہر ایک کے مراتب الگ الگ ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ ہر انسان کی ترقی کا ایک دائرہ ہوتا ہے اس میں وہ ترقی کرتا ہے۔تو اوسط درجہ کی ترقی کی استعداد ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ہاں کوئی کسی پہلو میں بڑھ جاتا ہے اور کوئی کسی میں کم رہ جاتا ہے۔بعض لوگ حساب کے زیادہ ماہر ہوتے ہیں اور بعض تاریخ کے۔مگر یہ نہیں ہوتا کہ کسی کو حساب یا تاریخ بالکل ہی نہ آئے اور وہ ان کے متعلق کچھ بھی قابلیت پیدا نہ کر سکے۔پس کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اس معیار کو بڑھایا جائے اور کوشش کی جائے کہ اعلیٰ تقریر کرنے کا ملکہ سب لڑکوں میں پیدا ہو۔یہ تو ایک ضمنی بات تھی جو میں نے بیان کی۔اصل بات یہ تھی کہ بورڈ نگ تحریک جدید ترقی کرے۔اس کی ذمہ داری ان طلبہ پر ہے جو اس بورڈنگ میں رہ چکے ہیں یا آئندہ رہیں گے۔بورڈروں نے اپنے ایڈریس میں تسلیم کیا ہے کہ اس بورڈنگ میں رہ کر انہوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔اگر یہ درست ہے کہ اس وجہ سے انہیں دین کی زیادہ واقفیت حاصل ہوئی ، اگر یہ صحیح ہے کہ ان کی احمدیت سے محبت بڑھ گئی ہے۔اگر یہ ٹھیک ہے کہ دین کے احکام پر عمل کرنے کی رغبت ان میں زیادہ پیدا ہوگئی ہے۔اگر یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے نمازوں میں زیادہ با قاعدگی اختیار کر لی ہے اور اگر یہاں نہ آتے تو یہ باتیں ان میں اس رنگ میں پیدا نہ ہوتیں تو ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان پر ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ وہ طلباء جو ان فوائد سے محروم ہیں ان کو تحریک کریں کہ وہ بھی یہاں آئیں اور ان کے والدین سے کہیں کہ انہیں یہاں بھیجیں۔اگر سارے طالب علم اس