زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 116
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 116 جلد چهارم میری سکیم یہ تھی کہ کم از کم تین سو بیرونی جماعتوں کے نمائندے یہاں رہیں اور یہاں سے ایک ایسی روح لے کر جائیں جو ہر وقت انہیں خدمت دین کے لئے بے تاب رکھے۔اس میں مقامی بورڈر شامل نہیں تھے۔پس اس سکیم کے بعد بیرونی طلباء 120 یا 125 کے قریب آئے ہیں اور ابھی ایک ایک کے مقابلہ میں دو دو کے آنے کی ضرورت ہے۔شاید بورڈنگ کی موجودہ عمارت اتنی تعداد کے لئے کافی نہ ہو۔مگر مکانوں کا بڑھانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔جب انسان بڑھتے ہیں تو مکانات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔اس تعداد کو پورا کرنے کے متعلق سب سے زیادہ ذمہ داری بورڈ نگ کے لڑکوں پر ہے۔ابھی ایڈریس کا جو جواب دیا گیا ہے اور خوشی کی بات ہے کہ زبانی دیا گیا ہے، جواب دینے والا بے شک علمی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور وہ خاندان تقریریں کرنے والا ہے۔یہ بات اسے علمی سہولت پہنچانے والی ہے۔مگر میرے لئے یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے اس رنگ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ایک لڑکے کی تقریر سنی جس میں شکلی تھی ، بے خوفی تھی اور صفائی تھی۔مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ تقریر کے کچھ حصے شاید حفظ کئے ہوئے تھے۔مگر ممکن ہے یہ لہجہ کا اثر ہو اور واقعہ میں یاد نہ کئے ہوئے ہوں۔ہوسکتا ہے کہ بوجہ پوری مشق نہ ہونے کے لہجہ ایسا ہو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یاد کئے ہوئے فقرے دہرائے جا رہے ہیں۔تقریر کی خوبی جہاں روانی ، سلاست زبان اور فصاحت پر مشتمل ہوتی ہے وہاں آواز کے اتار چڑھاؤ پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔اور جن لیکچراروں میں یہ بات پائی جاتی ہے وہ وہی ہوتے ہیں جو قوموں کو اٹھا کر بہت بلندی پر لے جاتے ہیں اور ان میں بجلی کی ایسی رو پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ جان و مال ، عزت و آبرو، آرام و آسائش غرض کسی چیز کی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کرتیں۔یہ چیزیں طبعی طور پر لیکچرار کے اندر ہوتی ہیں یا پھر مشاقی سے پیدا کی جاتی ہیں۔پس ممکن ہے کہ کتابیں رٹنے کے نتیجہ میں اس قسم کا لہجہ ہو مگر مجھے پر یہ اثر ضرور ہے کہ بار بارد ہرا کر فقرے یادر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔باوجود اس کے یہ پہلا