زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 101
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 101 جلد چهارم کا یہ نتیجہ بعض دوسرے سکولوں کے نتیجہ کے مقابلہ میں اچھا نہیں کہلا سکتا۔مجھے یاد ہے کہ وزیر آباد کے ایک سکول کا نتیجہ متواتر سالہا سال تک سو فیصدی نکلتا رہا ہے اور سالہا سال تک یو نیورسٹی میں اعلیٰ امتیاز کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے والے پہلے تین لڑکوں میں سے ایک ضرور اس سکول کا ہوتا رہا ہے۔تو ایسے سکول بھی ہیں جو سو فیصدی نتائج پیش کرتے ہیں۔خصوصاً آریہ سکول لاہور سنٹرل ماڈل سکول لاہور اور وزیر آباد کا وہ سکول جس کا میں نے ذکر کیا ہے جو ممکن ہے اب ایسا اعلیٰ نہ رہا ہو۔ایسے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنے سکول کے اس نتیجہ سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ جو سکول چالیس، پینتالیس فیصدی نتیجہ نکالتا رہا ہو وہ اگر ترقی کر کے نوے فیصدی سے اوپر نتیجہ نکالے تو یہ ترقی یقیناً خوشکن ہے اور ایک ایسا اچھا معیار ہے جسے آئندہ قائم کرنے کے لئے اتنی محنت نہیں کرنی پڑے گی جتنی پہلے کرنی پڑی ہے۔اس سے کام کرنے والوں کے حوصلے بلند اور ارادے مضبوط ہوں گے۔اور طلباء کے اندر بھی یہ خیال پیدا ہو گا کہ ہم سے پہلوں نے یہ معیار قائم کیا ہے ہمیں اسے قائم رکھنا چاہئے اور اس لحاظ سے یہ تسلی بخش ہے۔پس یہ نتیجہ جہاں ہمارے لئے اس وجہ سے خوشی کا موجب ہے کہ نوے فیصدی سے اوپر نکلا ہے وہاں اس لحاظ سے بھی خوشکن ہے کہ ہمارے اساتذہ اور طلباء اب اس سے بھی آگے قدم ماریں گے اور کوشش کریں گے کہ آئندہ سو فیصدی نکلے۔اور جب اللہ تعالیٰ انہیں۔کامیابی دے دے کہ نتیجہ سو فیصدی نکلے تو پھر یہ کوشش کریں گے کہ طلباء صرف پاس ہی نہ ہوں بلکہ اتنے نمبر حاصل کریں کہ یونیورسٹی میں خاص عزت حاصل کر سکیں۔اور ایسی پوزیشن حاصل کر لیں کہ اگر آئندہ محنت اور لیاقت کا تسلسل جاری رکھ سکیں تو اچھے عہدے حاصل کرسکیں۔یا درکھنا چاہئے کہ مومن بھی چھوٹی چیز پر تسلی نہیں پاتا۔میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے کی کہ سید اسماعیل شہید جہاد کے لئے دہلی سے پشاور جا رہے تھے کہ رستہ میں انہوں نے سنا کہ ایک سکھ ایسا تیراک ہے کہ وہ دریائے اٹک کو تیر کر عبور کر جاتا ہے اور اس کا کوئی