زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 100

زریں ہدایات (برائے طلباء) 100 جلد چهارم تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے نتائج کیسے ہونے چاہئیں 11 جون 1938ء کو اولڈ بوائز تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی طرف سے حضرت مولوی محمد الدین صاحب بی۔اے ہیڈ ماسٹر کے اعزاز میں دعوت دی گئی اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر کی:۔یہ جلسہ جیسا کہ تقریروں سے ظاہر ہے اس غرض کے لئے منعقد کیا گیا ہے کہ ماسٹر محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر اور دوسرے اساتذہ کو جنہوں نے اس سال کی میٹرک کلاس کو تیار کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے مبارک باد دی جائے اور ان کے کام پر اظہار خوشنودی کیا جائے۔جیسا کہ ماسٹر محمد دین صاحب نے جواب میں بیان کیا ہے ہمارے سکول کا یہ نتیجہ بعض دوسرے سکولوں کے نتیجہ کے مقابلہ میں ایسا نہیں کہ ہم اسے قابل اطمینان کہہ سکیں۔قابل تسلی ہے مگر یہ نہیں کہ اب کسی مزید جد و جہد کی ضرورت نہیں رہی۔لیکن روایات ہمیشہ اپنے پیچھے اپنا اثر چھوڑا کرتی ہیں۔جن لوگوں کی روایات اچھی قائم ہو جائیں وہ قلیل جد و جہد سے زیادہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں لیکن جن کی روایات اچھی نہ ہوں انہیں کسی اعلیٰ مقام پر پہنچنے کے لئے زیادہ جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔عربی میں کہتے ہیں کہ الْعَودُ أَحْمَدُ یعنی جو کام دوسری دفعہ کیا جائے وہ زیادہ اچھا ہوتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہمارے سکول