زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 98
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 98 جلد چهارم چاہئے۔اسی طرح دوسری بچیوں کا حال ہے۔وہ انگریزی سیکھتی ہیں لیکن ان سے انگریزی میں گفتگو کرو تو آگے سے ایک فقرہ بھی انگریزی کا نہیں بولیں گی۔اسی طرح سے جب دین کی کوئی بات پوچھی جائے تو آگے سے بولتی نہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ان کو فلاں مسئلہ آتا ہے لیکن وہ بیان نہیں کر سکتیں۔یہ صرف کمزوری کا نتیجہ ہے لیکن اس کا نام شرم رکھا جاتا ہے حالانکہ یہ شرم بعض اوقات بہت سے گناہوں کا موجب ہو جاتی ہے۔حقیقت میں یہ شرم نہیں بلکہ کمزوری اور بزدلی ہے اور یہ چیز گناہوں کو روکتی نہیں بلکہ انہیں بڑھاتی ہے۔پس استادوں اور استانیوں کے لئے ضروری ہے کہ طالبات کے ذہن سے اس کمزوری کو دور کریں۔حیرت کی بات ہے کہ اس کمزوری کا نام شرم رکھا جاتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم میں امہات المومنین کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب وہ کسی مومن مرد سے بات کریں تو ان کی بات میں تختی ہونی چاہئے 9 اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب تم سے کوئی بات کرے تو اسے جھڑک دو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ گفتگو میں نخرہ نہ پایا جائے۔میں نے دیکھا ہے کہ لڑکیاں جب بھی بات کریں گی ان کے لب ولہجہ میں ایک قسم کا نخرہ پایا جائے گا۔پس تمہیں پورے طور پر یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہمیشہ صاف اور سیدھی بات کرو اور تمہاری کسی بات میں لچک اور نخرہ نہ ہو۔یہ چیزیں کمزوری کی علامت ہیں جن سے تمہیں بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔“ الفضل 22، 23، 25 اپریل 1961ء) 1: بخارى كتاب الجنائز باب ما قيل فى اولاد المشركين صفحه 222 حديث 1385 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية۔:2 مسلم كتاب الجهاد باب غزوہ حنین صفحه 791،790 حدیث 4616 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية۔3 بخارى كتاب المغازی باب غزوہ خیبر صفحہ 715 حدیث نمبر 4210 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 4 كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْهُ فَأَزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ