زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 97

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 97 جلد چهارم پیدا ہو گی ، جس طرح ابھی بعض لوگوں نے اپنی منافقت کا ثبوت دیا ہے، وہ سالہا سال سے میرے خلاف سازشیں کرتے تھے مگر ظاہر بیعت میں بھی داخل تھے۔اسی طرح سچائی ہے۔سچائی بہت سی نیکیوں کی جامع ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اپنے دین کا نام حق بلکہ خود اپنا نام بھی حق رکھا ہے۔غرض سچائی ایک ایسا گر ہے جس سے انسان تمام نیکیوں کو اختیار کر سکتا ہے۔مگر عورتوں میں خصوصاً جھوٹ کی عادت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے عورتوں کی بیعت میں اتہام طرازی اور جھوٹ سے بچنے کی شرط رکھی ہے۔مردوں کے لئے یہ شرط نہیں رکھی گئی۔وفاداری کے ماتحت غیبت بھی آجاتی ہے۔جو وفا کرتا ہے وہ پیٹھ کے پیچھے کبھی بات نہیں کہا کرتا۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ غیبت یہ نہیں کہ کسی کے متعلق سچی بات کہی جائے بلکہ کسی کی پیٹھ کے پیچھے اس کے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا غیبت ہے۔لیکن یہ خیال غلط ہے۔اگر کسی کے متعلق جھوٹ کہا جائے تو وہ تو جھوٹ ہوا۔غیبت یہی ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق کوئی سچی بات کر کے اسے مطعون کہا جائے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے کسی شخص کو غیبت سے منع فرمایا۔لوگوں نے کہا کہ ہم تو سیچ بولتے ہیں۔آپ نے فرمایا غیبت یہی تو ہے۔اگر تم جھوٹ بولتے ہو تو وہ تو جھوٹ ہوا 8 پس خالص غیبت یہی ہے کہ کسی کے متعلق اس کے پیٹھ کے پیچھے کچی بات کہی جائے ورنہ جو بات سچی نہ ہو بلکہ جھوٹی ہو وہ تو غیبت اور جھوٹ ملے ہوئے ہیں۔غرض اخلاق فاضلہ کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔پھر تعلیم کا حصول ہے۔اس میں تمہیں اپنے مذہب کو اچھی طرح سیکھنا چاہئے اور اپنی تعلیم سے اچھی طرح واقف ہونا چاہئے۔لیکن عورتوں میں یہ نقص ہے کہ وہ اپنی تعلیم حاصل تو کرتی ہیں لیکن جب ان سے کوئی دینی مسئلہ پوچھا جائے تو اس کا جواب دینے میں شرم محسوس کرتی ہیں۔حالانکہ یہ شرم نہیں بلکہ کمزوری ہے۔اور یہ ایک خطر ناک مرض ہے جو طالبات میں پایا جاتا ہے۔لیکن افسوس کہ استادوں اور استانیوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔میں نے دیکھا ہے کہ خود ہمارے گھر کی بچیوں میں وہ دلیری نہیں جو ہونی