زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 90

زریں ہدایات (برائے طلباء) 90 جلد سوم اسی طرح دین کی طرف توجہ کرنے کے متعلق بھی ایک احتیاط ضروری ہے ورنہ اس صفت کے مقابل پر ایک عیب پیدا ہو جائے گا جو ریاء کا عیب ہے۔اس عیب کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں مادیت کے اثر کے ماتحت لوگ احکام دین کی حقیقت اور مغز کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور محض قشر اور احکام دین کو ظاہری طور پر ادا کر دینے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور اسی پر مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر لیا حالانکہ حقیقت اور مغز سے محض نا آشنا ہوتے ہیں۔یہ نقص نئی تعلیم کے حاصل | کرنے والوں میں بہت عام طور پر پایا جاتا ہے۔مادیت کے اثر کے ماتحت وہ انسان کو کوئی احسن تقویم مخلوق خیال نہیں کرتے جس کے لئے روحانیت میں اعلیٰ ترقی کے میدان خالی ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ بندر سے پیدا ہوا ہے اور دوسرے حیوانوں میں اور اس میں صرف یہی فرق ہے کہ اس کا دماغ ذرا زیادہ اعلیٰ قسم کا ہے۔یا یہ خیال کرتے ہیں کہ روح تو کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ پڑھتے ہیں کہ جسم کی تمام حرکات دماغ اور اعصاب کے ذریعے سے ہیں۔اور پھر یہ ایسی کتابیں پڑھتے ہیں کہ جن میں Psychology علم النفس والوں نے یہ لکھا ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے نیچر کے حالات سے مجبور ہو کر کرتا ہے اور اس کا اپنا ارادہ کچھ چیز نہیں کیونکہ جس چیز کو یہ اپنا ارادہ سمجھتا ہے وہ بھی نیچر کے بعض اور حالات کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔گویا یہ سب کام ارادے سے نہیں بلکہ ایک مجبوری سے کرتا ہے۔غرضیکہ ان باتوں کے پڑھنے سے عام طور پر مادیت کے خیالات دل میں بیٹھ جاتے ہیں اور روحانیت کا اثر دلوں میں بہت کم ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چند احکام کو ظاہری طور پر ادا کرنے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چونکہ خدا کا حکم تھا اس لئے حکم کو بجالانے کیلئے عمل کرتے ہیں کیونکہ حکم کو بجالانے کے بغیر چارہ نہیں اور نہیں خیال کرتے کہ ان احکام پر عمل کرنے کی غرض روحانیت کے ترقی کے مقام کو حاصل کرنا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً خدا کا حکم ہے کہ نماز پڑھو اس لئے ہم نے نماز پڑھ لی بس حکم پورا کر دیا اور یہ خیال نہیں کرتے کہ جب تک نماز کا فائدہ حاصل نہ ہو تب تک گویا یہ صرف قشر