زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 89
زریں ہدایات (برائے طلباء) 89 جلد سوم ہیں۔اصل مقصود تو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے اور وہ تب حاصل ہو گا جب ہم ان باتوں پر عمل کریں گے جو حضرت صاحب نے اپنی تعلیم میں بیان فرمائی ہیں۔جو لوگ سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے پالینے کو ہی اصل مقصود سمجھ کر خوشی منائیں کہ ہم کامیاب ہو گئے ان کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک پیاسے کو مدت کی تلاش کے بعد ایک ٹھنڈے پانی کا چشمہ مل | جائے مگر وہ اس پانی کو پئے تو نہیں لیکن خوشی منائے کہ میں نے اپنا اصل مقصد حاصل کر لیا۔اصل مقصد تو پیاس بجھانا تھا جو نہیں مجھے گی جب تک پانی پی نہ لے۔یا ان کی مثال ایسے شخص کی مثال ہے جو بھوکا ہے اور اسے بڑی تلاش کے بعد کھا نامل گیا ہے اب وہ اسے کھا تا تو نہیں لیکن خوشی مناتا ہے کہ میں نے مقصد کو پا لیا۔یا جو شخص نگا ہے اور اسے کپڑے مل جائیں اب وہ کپڑوں کے مل جانے پر ہی خوشی منائے اور انہیں پہنے نہیں۔جب تک پیا سا پانی پئے گا نہیں یا بھوکا کھا نا کھائے گا نہیں اور نگا کپڑا پہنے گا نہیں تب تک صرف پانی یا کھانا یا کپڑے مل جانے سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح وہ آسمانی پانی جو حضرت مسیح موعود کی معرفت خدا نے اتارا ہے ( یعنی آپ کی تعلیم ) جب تک پیا نہ جائے تب تک خدا تعالیٰ کی محبت کی پیاس بجھ نہیں سکتی۔حضرت مسیح موعود کی مثال ایک ڈاکٹر کی مثال ہے۔اگر کسی بیمار کو ایک لائق ڈاکٹر مل جائے تو جب تک وہ اس ڈاکٹر کی بتائی ہوئی دوائیں استعمال نہ کرے گا تب تک ہر گز شفاء نہ پائے گا۔جب تک واقعی طور پر اور سچ سچ اس راستہ پر انسان نہ چلے جو خدا تک پہنچنے کے لئے حضرت صاحب نے بتایا ہے تب تک حقیقی مقصد یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان پا نہیں سکتا۔پس صرف مسائل کی حقانیت کو سمجھ لینے کو ہی اصل مقصود سمجھنا غلطی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ احکام دین پر عمل بھی کیا جاوے۔سودین کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔دین کا علم سیکھا جائے اور دین کے احکام پر عمل کیا جائے۔اب جس طرح پہلی بات یعنی سچ بولنے کے متعلق ایک احتیاط ضروری تھی جس کو مد نظر نہ رکھنے کی وجہ سے اس کے مقابل میں ایک عیب یعنی بداخلاقی کے پیدا ہونے کا احتمال تھا