زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 88

زریں ہدایات (برائے طلباء) 88 جلد سوم موجود ہو اُس وقت بھی اس کی نظر ان کتابوں پر سے گزرے اور اس طرح سے دین کی سمجھ حاصل ہو۔پھر یہی نہیں بلکہ روحانی علوم بے انتہاء ہیں۔میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ میں ایک شخص کو سمجھا رہا ہوں کہ علوم روحانی کے دروازے ہوتے ہیں۔ایک روحانی مقام ایسا ہوتا ہے کہ اس مقام پر پہنچ کر انسان پر احکام دین کے متعلق نئے علوم کھلتے ہیں جن سے عوام بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔اس مقام پر پہنچنے والے انسان کیلئے بعض وہ چیزیں جو عوام کے لئے طیب بلکہ اطیب ہوتی ہیں اس کے لئے صرف حلال ہوتی ہیں۔اور بعض وہ چیز میں جو عوام کے لئے حلال ہوتی ہیں اس کے لئے حرام ہو جاتی ہیں۔بعض وقت اس پر سونا حرام ہوتا ہے اور جاگنا واجب ہو جاتا ہے اور بعض وقت اس پر جا گنا حرام ہو جاتا ہے اور سونا واجب ہو جاتا ہے۔ایسے انسان کے لئے اپنی صحت کے قیام کے واسطے بعض اوقات سیر کرنا اور آب و ہوا کی تبدیلی کرنا واجب ہو جاتا ہے اور اگر ایسا نہ کرے تو گناہ کا موجب ہو جاتا ہے۔پس یاد رکھنا چاہئے کہ دین کے ظاہری احکام کے جان لینے پر ہی دین کے علم کا انتہا نہیں ہے بلکہ اور بھی بے انتہا روحانی علم کا سمندر باقی ہوتا ہے۔پھر کس قدر غلطی ہے اس کی جو یہ خیال کر لے کہ دین کے علم سیکھنے کے لئے کسی لمبے وقت اور محنت کی ضرورت نہیں ہے۔فرمایا کہ ہمارے طلباء کو چاہئے کہ دین کے علم کو معمولی اور چھوٹی چیز خیال نہ کریں اور یہ نہ سمجھیں کہ کالج سے فارغ ہو کر چند ماہ اس کے سیکھنے کے لئے کافی ہوں گے بلکہ ابھی سے دین سیکھیں۔پھر احکام دین پر عمل کی بھی ضرورت ہے عمل کے بغیر تو کچھ بھی فائدہ نہیں۔فرمایا یہ نقص عام طور پر ہماری جماعت میں داخل ہونے والی عوام میں پایا جاتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسائل کو سمجھ لیا تو ہمارا فرض ادا ہو گیا۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی صداقت کو مان لیا بس ہمارا مقصود حاصل ہو گیا حالانکہ یہ بات غلط ہے۔وفات مسیح کے عقیدہ کو اختیار کرنا یا حضرت صاحب کی صداقت پر یقین کرنا یہ چیزیں تو اصل مقصود نہیں