زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 87

زریں ہدایات (برائے طلباء) 87 جلد سوم کیے جاتے ہیں لیکن اس کا قلب اس عقیدہ کو قبول نہیں کرتا۔پھر ایسا ہوتا ہے کہ اکیسویں سال میں جا کر اسے اس مسئلہ کی سمجھ آجاتی ہے۔اب کوئی نئے دلائل تو نہیں تھے جو اسے ہیں سال تک نہ بتائے گئے ہوں اور اکیسویں سال میں سنائے گئے اور اسے وفات مسیح پر یقین ہو گیا بلکہ وہی دلائل تھے جو بار بار اس کے سامنے پیش کیے جاتے تھے۔بات یہ تھی کہ میں سال تک اس کے قلب میں وفات مسیح کی قبولیت کیلئے مادہ موجود نہ تھا اس لئے دلائل کے پیش کرنے کے باوجود اس نے اس عقیدہ کو قبول نہ کیا۔پھر جس وقت کہ اس کے قلب میں قبولیت کا مادہ موجود تھا اور اتفاقاً ایسے وقت میں پھر اس کے سامنے یہ بات پیش کی گئی تو اس کے قلب میں یہ عقیدہ داخل ہو گیا۔پھر دیکھو قرآن کریم کی آیات کے معانی اور معارف سمجھنے میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک آیت کو کئی بار انسان پڑھ جاتا ہے اور اسے سمجھ نہیں آتی۔پھر ایک وقت میں بجلی کی طرح اُس کے قلب میں وہ آیت اثر کرتی ہے اور انسان خیال کرتا ہے کہ یہ آیت تو ابھی اتری ہے۔حضرت عمرہ جیسے جلیل القدر انسان کی نظر سے بھی یہ آیت کئی دفعہ گزرتی ہے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ 2 لیکن آپ کی | سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ اس میں رسول کریم ﷺ کی وفات کا ذکر ہے اور آپ یہ کی وفات پر قسمیں کھاتے ہیں کہ آپ ﷺ فوت نہیں ہوئے۔لیکن حضرت ابوبکر نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ | كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَى لَا يَمُوتُ تو اُس وقت حضرت عمر پر بجلی کی طرح اس آیت کا اثر ہوا اور آپ کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی وفات کا ذکر تھا۔اور آپ کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہ آیت ابھی آسمان سے نازل ہوئی ہے۔3 پس دین کے علوم سیکھنے کیلئے دین کی کتابیں صرف ایک دفعہ پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ چاہئے کہ انسان ان کو بار بار پڑھے تا کہ جس وقت اس کے قلب میں قبولیت کی کیفیت