زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 86
زریں ہدایات (برائے طلباء) 86 جلد سوم داخل ہو جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک انسان کے قلب میں ایک بات کی قبولیت کا مادہ نہ ہو تب تک وہ بات چاہے بیسیوں دفعہ اس کی نظر سے گزرے اس کے قلب میں وہ بات داخل نہیں ہوتی۔پھر جس وقت کہ اس بات کی قبولیت کا مادہ اس کے قلب میں موجود ہوا گر اتفاقاً بھی ایسے وقت میں وہ بات اس کے سامنے سے گزر جائے تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ بات اس کے قلب پر بجلی کی طرح اثر کرتی ہے اور اس بات کے لطیف | اور صحیح معنی اس کی سمجھ میں آجاتے ہیں تب وہ حیران ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ بات اس نے آج ہی پڑھی ہے۔دیکھو! مادیات میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔مثلاً آٹھ آدمی ایک جیسے حالات میں رہتے ہیں اور ایک ہی کنویں سے پانی پیتے ہیں ان میں سے دو کو ہیضہ ہو جاتا ہے اور چھ بالکل صحیح سلامت رہتے ہیں۔اب اگر چہ ہیضہ کے کیڑوں والا پانی سب نے پیا ہے لیکن سب میں ان کیڑوں کے اثر کی قبولیت کا مادہ موجود نہ تھا۔ان میں سے دو میں چونکہ اس بیماری کے کیڑوں کے اثر کے لئے قبولیت کا مادہ موجود تھا اور اتفاقاً اس مادہ کی موجودگی میں ہیضہ کے کیڑے بھی داخل ہو گئے اس لئے ان دو کو تو ہیضہ ہو گیا اور باقیوں کو نہ ہوا۔فرانس کے ایک ڈاکٹر نے جرمن تھیوری کو غلط ثابت کرنے کی غرض سے ایک شیشی کی شیشی ہیضہ کے کیڑوں کی کھالی لیکن اسے ہیضہ نہ ہوا کیونکہ اس کے اندر ہیضہ کے کیڑوں کے اثر کے لئے قبولیت کا مادہ موجود نہ تھا۔اسی طرح پیلو فیور (Yellow Fever ) کا باعث جس قسم کے مچھر ہوتے ہیں اس قسم کے مچھر ایک ڈاکٹر کے سارے بدن پر لڑائے گئے لیکن اسے بخار نہ ہوا۔پھر ایک اور ڈاکٹر کو ایک مچھر سے لڑایا گیا اور اسے بخار ہو گیا۔ان سب باتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جب تک کسی بات کے لئے قبولیت کا مادہ موجود نہ ہو تب تک وہ بات چاہے بیسیوں دفعہ سامنے سے گزرے اس کا اثر انسان قبول نہیں کرتا اور دین کے علوم میں بھی ایسا ہوتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو وفات مسیح کا عقیدہ سمجھانے کیلئے ہیں سال تک تبلیغ کی جاتی ہے اور قرآن اور حدیث اور بائبل اور کتب تاریخ وغیرہ سے دلائل اس کے سامنے بار بار پیش