زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 85

زریں ہدایات (برائے طلباء) 85 جلد سوم دین کا علم سیکھنے کا کام تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی گولی پانی میں حل کی اور اسے پی لیا اور اندر چلی گئی ایسا ہی دین ہے کہ بس چند دنوں میں جب ذرا توجہ کریں گے تو دین کا علم ہمارے اندر داخل ہو جائے گا۔دین ان کے خیال میں ایک چھوٹی سی چیز ہے اور اگر محنت اور وقت درکار ہے تو ظاہری علوم کے لئے ہے۔دین کے لئے کسی لمبے وقت کی ضرورت | نہیں۔اکثر طالب علموں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جب ہم کالج سے فارغ ہو جائیں گے تو جہینہ کیلئے قادیان جائیں گے وہاں ہمارے لیے استاد مقرر کر دیا جائے گا جو ہمیں اتنے عرصہ میں دین کے تمام مسائل سے واقف کر دے گا حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ ایک ماہ میں یا اس سے کچھ زیادہ عرصے میں دین سیکھا جا سکتا ہے۔ان کے اس خیال کے پیدا ہونے کی وجہ یہی ہے کہ دین کو چھوٹی سی چیز خیال کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ دین کے علم کی وسعت ظاہری علوم کی وسعت سے بہت زیادہ ہے۔اور دین کے علوم کی تفصیلات اور باریکیاں ظاہری علوم کی تفصیلات اور باریکیوں سے بہت زیادہ ہیں۔جب ظاہری علوم کے حاصل کرنے میں بھی لمبا عرصہ اور بڑی محنت درکار ہے تو دین کے علوم حاصل کرنے میں بھی لمبا عرصہ اور بڑی محنت درکار ہے اور دین کے علوم حاصل کرنے کیلئے بھی بہت زیادہ عرصہ اور محنت کی ضرورت ہے۔فرمایا دین کا علم حاصل کرنے کیلئے بہت سی دینی کتب کا پڑھنا ضروری ہے۔مثلاً قرآن کریم، کتب احادیث، کتب حضرت مسیح موعود اور صوفیاء کی کتابیں وغیرہ وغیرہ۔اول تو ان سب کتابوں کے پڑھنے کے لئے بھی ایک لمبا عرصہ اور محنت درکار ہے۔پھر اگر کوئی ان سب کتابوں کو پڑھ لے تب بھی یہ خیال غلط ہے کہ اس نے دین کا علم کامل طور پر سیکھ لیا ہے کیونکہ ان کتابوں کو ایک دفعہ عبور کرنے سے یہ نہیں ہوتا کہ سب کو سمجھ بھی لیا ہے۔بلکہ بسا اوقات انسان ایک بات کو بیسیوں دفعہ پڑھتا ہے لیکن اس کا صحیح مفہوم یا اس بات کی خوبی کا علم اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتا۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہی بات اس کے سامنے سے گزرتی ہے اور فوراً اس بات کا صحیح مفہوم یا کوئی لطیف معنی اس کے قلب میں