زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 84

زریں ہدایات (برائے طلباء) 84 جلد سوم میں بے ادبی اور بداخلاقی پائی جاتی ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرُنَا وَاسْمَعُوا العنی تم رَاعِنَا | مت کہو اور انظرنا کہو۔اب رَاعِنَا اور انظرنا کا مطلب ایک ہی ہے یعنی ہماری رعایت رکھیے یا ہماری طرف نظر رکھیے لیکن پھر بھی رَاعِنَا کہنے سے ممانعت کی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رانا کا مادہ باب مفاعلہ سے ہے اور اس باب میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ تم مقابل میں ایک بات کرو گے تب ہم تمہارے لیے ایسا کریں گے۔اور راعنا میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ آپ ہماری رعایت رکھیں گے تب ہم بھی آپ کی رعایت ملحوظ رکھیں گے ورنہ نہیں۔مگر انظرنا کے معنی صرف یہی ہیں کہ آپ ہماری رعایت رکھیے یا ہماری طرف نظر رکھیے۔پس راعنا کے معنی اگر چہ عام محاورہ میں یہی ہیں کہ آپ ذرا ہماری رعایت رکھیے لیکن اس لفظ کے مادہ میں چونکہ بے ادبی کا مفہوم پایا جاتا ہے کیونکہ بڑے آدمی کو جس کا ادب ملحوظ رکھنا چاہئے یہ کہنا کہ ہم آپ کی رعایت اور ادب صرف اس صورت میں رکھیں گے کہ جب آپ بھی ہماری رعایت رکھیں گے ایک سخت بے ادبی کا کلام ہے اس لئے اس کی مخالفت فرمائی ہے اور اسی مفہوم کو ایسے لفظ میں ادا کرنے کے لیے حکم دیا ہے جس میں بے ادبی کا بالکل احتمال نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی بات کو بیان کرنے کے لئے ادب کا طریق بھی ہو سکتا ہے اور بے ادبی کا طریق بھی ہوسکتا ہے۔مومن کیلئے لازم ہے کہ ضرورت پر بات کو سچ سچ بیان کر دیوے لیکن اس بات کا خیال ضرور رکھے کہ اس کے بیان کرنے کے طریق اور الفاظ میں بے ادبی اور بداخلاقی نہ ہو۔دوسری بات یہ ہے کہ دین کی طرف توجہ ہو۔فرمایا یہ مرض عموماً کالج کے طلباء میں ہے کہ وہ دین کی طرف توجہ نہیں کرتے اور دین کو اہم امور میں سے شمار نہیں کرتے عمل پیرا ہونا تو درکنا را حکام دین کے علم سے بھی غافل اور بے خبر رہتے ہیں۔فرما یا اول تو دینی علوم سے واقفیت ہونی چاہئے۔عام طور پر طلباء یہ خیال کر لیتے ہیں کہ دین کا علم سیکھنے کے لئے کوئی زیادہ وقت یا محنت درکار نہیں ہے۔وہ سمجھ لیتے ہیں کہ