زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 3
زریں ہدایات (برائے طلباء) 3 جلد سوم کہ میں ان سے مار بھی کھاؤں اور پھر وہ میری بتائی ہوئی جگہ سے دعوت بھی کھا جائیں اور میں محروم ہی رہوں۔یہ سوچ کر وہ بھی ادھر ہی دوڑ پڑتا۔لیکن وہاں کچھ بھی نہ ہوتا۔لڑکے چونکہ دعوت کے نہ ملنے کی وجہ سے پہلے سے ہی غصہ میں ہوتے جب وہ خود ہی ان کے قبضہ میں چلا جاتا تو پھر خوب مارتے۔تو بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سمجھانے والے کم عقلی اور ناواقفیت کی وجہ سے خود بھی دھوکا میں آجاتے ہیں اور کئی تو نا کبھی میں مخالفین کا کہنا صحیح اور درست بھی مان لیتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ ایک معزز آدمی کہ رہا ہے اس کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے ممکن ہے سچ ہی ہو۔اس لئے جھٹ خط لکھ دیتے ہیں کہ ہمیں بتایا جاوے کہ احمدیوں کا کیا کلمہ ہے اور کونسا قرآن ہے۔چونکہ بعض احمد ی اس قسم کے دھوکا میں آجاتے ہیں، اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اس لئے میں اس کے متعلق کچھ بتانا چاہتا ہوں۔اس بات کو خوب یاد رکھو کہ ہمارا خدا، ہماری کتاب ، ہمارا رسول وہی ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔اور جو تعلیم آنحضرت علال لائے تھے اس سے ایک شوشہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زیادہ یا کم نہیں کیا۔حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا کہ یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ہوں۔میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہر گز نہ ملے گا۔جب تک " سب کچھ پورا نہ ہو 1 مگر زمین و آسمان کی موجودگی میں ہی بائبل کا ایک شوشہ چھوڑ سب کچھ مٹ گیا۔یعنی | قرآن کریم آگیا اور اس نے آکر اسے مٹا دیا۔اب ہمیں یہ مانا پڑے گا کہ حضرت مسیح کے یہ کہنے سے کہ ” جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توربیت کا ہر گز نہ ملے گا۔یہ مراد نہ تھی کہ یہ مادی زمین و آسمان جب تک نہ مٹیں گے اُس وقت تک توریت کا ایک شوشہ بھی نہ مٹے گا۔بلکہ یہ مراد تھی کہ ہر ایک نبی کے وقت جو زمین اور آسمان نیا بنایا جاتا ہے وہ