زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 72

زریں ہدایات (برائے طلباء) 72 جلد سوم طلباء کو نصیحت 4 مارچ 1921ء بعد از نماز فجر طلباء ففتھ کلاس ہائی سکول قادیان جو امتحان دینے کیلئے جانے والے تھے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں مع ہیڈ ماسٹر کے حاضر ہوئے۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے ان کو حسب ذیل نصائح فرمائیں۔و تم میں دو قسم کے لڑکے ہیں۔ایک وہ جو آئندہ پڑھائی جاری رکھیں گے اور ایک وہ جو پڑھائی بند کر کے کسی کا روبار میں لگ جائیں گے۔میں دونوں کو نصیحت کرتا ہوں۔دنیا میں کوئی عظیم تغیر موت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔عام لوگ موت سے اس لئے گھبراتے ہیں کہ انہیں آئندہ کے حالات نظر نہیں آتے۔اگر انہیں وہ حالات نظر آجائیں تو اس طرح نہ گھبرائیں۔دراصل موت اسی زندگی کو دوسری شکل میں منتقل کرنے والی ہوتی ہے اور اس کے ذریعے ایک عظیم الشان تغیر واقع ہوتا ہے۔دنیا میں بھی وہی لوگ اپنی حالت میں عظیم تغیر پیدا کر سکتے ہیں جو ایک حالت پر موت وارد کر کے دوسری حالت پیدا کرتے ہیں۔دنیا میں کئی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔بعض لوگ بہت کچھ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی ساری عمر ملازمت کیلئے عرضیاں دینے میں ہی گزر جاتی ہے۔لیکن ایک وہ ہوتے ہیں جن کی عمر کا بیشتر حصہ کھیل کود میں صرف ہوتا ہے اور وہ بہت معمولی تعلیم حاصل کیے ہوتے ہیں لیکن اعلیٰ درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔پھر کئی ایسے ہوتے ہیں جو انٹرنس پاس کر کے کام میں لگ جاتے ہیں اور وہ تعلیمی زندگی