زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 68
زریں ہدایات (برائے طلباء) 68 جلد سوم ہیں۔اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ کہ دو مہینہ کے بعد اس علاقہ کے عیسائیوں نے خود ہی مسلمانوں سے درخواست کی کہ آپ ہم پر حکومت کریں اور وہ عیسائی مسلمانوں کے طرفدار ہو کر عیسائی قوم سے نبرد آزما ہوئے۔2 پھر علوم کا یہ حال تھا کہ گو یورپ اپنے تعصب کی وجہ سے یہ تو نہیں مانتا کہ مسلمانوں نے کوئی علم ایجاد کیا ہے مگر یہ سب مانتے ہیں کہ مسلمانوں نے یونانی علوم کی حفاظت کی اور ان کو تباہ ہونے سے بچالیا۔اگر مسلمان ان علوم کی حفاظت نہ کرتے تو یونانی علوم سب کے سب تباہ ہو جاتے۔یورپ نے بھی جو کچھ کیا ہے اس میں ایجادات کا حصہ بہت کم ہے بلکہ ان یونانی علوم میں ترقیاں ہیں لیکن یہ احسان کیسے فراموش کر دیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے علوم کو مٹنے سے بچالیا۔پھر اخلاق کے علاوہ ظاہری شان کے لحاظ سے اسلام کا ورثہ اتنا وسیع ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔عیسائیوں اور مسلمانوں کی ترقی کا اگر مقابلہ کیا جائے تو فرق نمایاں نظر آئے گا۔مسلمانوں نے اپنے مقابلہ کی تمام روکوں کو ہٹا دیا تھا۔یورپ کے مقابلہ میں آج تمام دنیا کے دل میں یہ اہر پیدا ہوگئی ہے کہ وہ یورپ کی حکومتوں سے اپنے آپ کو آزاد کرانا اور اس غلامی کو پرے پھینکنا چاہتی ہے۔لیکن مسلمانوں نے لوگوں کے قلوب کو رام کیا ہوا تھا اور لوگوں کے دل ان کے ماتحت تھے۔آج انگریزوں کی سلطنت میں اگر احمدی جماعت کو علیحدہ کر لیا جائے جو بوجہ اپنے مذہبی فرض کے انگریزوں کی خیر خواہ اور سچے دل سے فرمانبردار ہے تو ایسے خیر خواہ جو بچے ہوں ملنے مشکل ہیں۔لیکن مسلمانوں کے وقت میں یہ بات نہ تھی۔غیر اقوام اپنے ہم قوموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو اپنا زیادہ خیر خواہ سمجھتی تھیں اور یہ فوجوں کی بناء پر تھا۔پس وہ اسلام اور ایسا اسلام تم سے کھویا جا رہا ہے۔اسلام کو آج بدترین مذہب شمار کیا جاتا ہے۔اگر ایک وقت میں غیر اقوام مسلمانوں کے لفظ لفظ کو اپنی مذہبی کتب کی طرح وقع سمجھتی تھیں تو آج ایک پیسہ کے برابر بھی مسلمانوں کے اقوال کا اعتبار نہیں۔کوئی زمانہ