زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 64
زریں ہدایات (برائے طلباء) 64 جلد سوم میں لوگوں سے پوچھا کہ آجکل عربی زبان کا سب سے بڑا عالم کون ہے۔لوگوں نے ایک امام کا نام بتایا۔اس کے پاس گئے اور کہا کہ میں عربی پڑھنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ب پڑھ کر کیا لو گے ہیں برس کی تمہاری عمر ہو گئی ہے اور عربی زبان کا صرف ابتدائی حصہ سیکھنے کے لئے ہیں سال درکار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ خواہ کچھ ہو میں کامل زبان پڑھوں گا۔انہوں نے یہ شوق دیکھ کر پڑھانا شروع کیا اور وہ پڑھنے لگے۔چونکہ حافظہ اور ذہن اچھا تھا اور ادھر ان الفاظ نے اس قدر غیرت مند بنا دیا تھا اس لئے جلد جلد ترقی کرنے لگے اور ایک بڑا عرصہ استاد کے پاس رہے۔آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ فارغ التحصیل ہوئے۔اور اس شان کے عالم ہوئے کہ استاد بھی اگر چہ بڑا امام تھا مگر اس کا نام اسی شاگرد کے باعث مشہور ہوا۔وہاں سے فارغ ہو کر بغداد کی اسی مسجد میں آئے جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ تمہیں بولنے کا حق نہیں اور درس دیا اور کہا کہ کیا اب مجھ کو بولنے کا حق ہے یا نہیں؟ تو دیکھو ایک چھوٹا سا فقرہ تھا کہ تمہیں بولنے کا کیا حق ہے۔مگر اس نے کتنا اثر غیرت کے حق میں کیا کہ ایک شخص کو گمنامی اور خجالت کے گڑھے سے نکال کر بڑا بلند اور رفیع شان انسان بنا دیا۔اور آج ان کو آٹھ سو سال گزرتے ہیں مگر جب تک عربی ادب رہے گا ان کا ممنون رہے گا۔انہوں نے اپنے زمانہ میں ایسی ایسی تحقیقات زبان کی کی ہے که عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حضرت اقدس نے جو دعویٰ کیا ہے کہ عربی زبان الہامی زبان ہے اس کو ان کی کتابوں کے پڑھنے کے بعد علمی طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔غور کرنا چاہئے کہ اتنا بڑا کام کرنے والی کیا چیز تھی ؟ غیرت۔یہ تو دور کی بات تھی۔ایک اور واقعہ قریب کا سناتا ہوں۔ہمارے آباء واجداد کو اس علاقہ میں ایک اقتدار اور حکومت حاصل تھی۔ان کی حکومت قادیان کے ارد گرد دس پندرہ میں تتک پھیلی ہوئی تھی۔ایک طرف دریائے بیاس اور دوسری طرف بٹالہ اور پھر ایک طرف کپورتھلہ تک ہمارے اجداد کی حکومت تھی۔جب سکھوں نے زور پکڑا تو یہ ریاست جاتی رہی۔سکھوں نے رات کو چھاپہ مارا اور ہمارے پردادا کو کپورتھلہ جانا پڑا۔مہاراجہ کپورتھلہ نے