زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 63
جلد سوم زریں ہدایات (برائے طلباء) 63 بڑے باپ کا بیٹا ہونے کے باعث بڑے لوگوں کی مجلس میں ان کو جگہ مل جاتی تھی۔ہمارے ملک میں اور تو نہیں ڈاکٹر اور طبیب کا بیٹا خواہ ڈاکٹر اور طبیب نہ ہو ڈاکٹر اور طبیب کہلاتا ہے۔مولوی کا بیٹا مولوی کہلاتا ہے خواہ علوم عربی سے محض نا واقف۔پس بعض پیشوں میں زبر دستی بغیر استحقاق کے بیٹے کو باپ کا نام دے دیا جاتا ہے۔اسی طرح چونکہ وہ بڑے عالم کے بیٹے تھے اس لئے لوگ ان کے والد کے علم کے احترام کے باعث ان کو بھی ادب کی نگاہوں سے دیکھتے اور یہ علماء کی مجلس میں بیٹھتے تھے۔ایک دفعہ جب کہ ان کے باپ کی وفات ہو گئی اور وہ حسب معمول ایک علمی مجلس میں چلے گئے تو وہ زمانہ چونکہ اسلام کی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا اور اُس وقت مسلمانوں میں غفلت اور سستی نہ تھی بلکہ ان کا قدم ترقی کے میدان میں تیزی سے بڑھ رہا تھا اس لئے ان کی مجلس میں علوم وفنون کے مشغلہ ہوتے تھے۔جیسا کہ آج یورپ میں مختلف مجالس علوم وفنون کی ہوتی ہیں اور مختلف مسائل پر ڈیبیٹیں (Debates) ( بخشیں ) ہوتی ہیں۔آجکل کی طرح نہیں کہ ہمارے طلباء مدرسہ کی پڑھائی کو ہی پڑھائی سمجھتے ہیں اور مدرسہ سے باہر پڑھنا گناہ خیال کرتے ہیں۔ترقی کرنے والے ممالک کی یہ حالت نہیں ہوتی بلکہ مدارس کے علاوہ ان کی مجالس بھی علوم کی ترقی کا باعث ہوتی ہیں۔غرض وہ علمی مجالس ہوتی تھیں۔ان میں بادشاہ وقت بھی آجایا کرتے تھے اور ایسی مجالس مساجد میں ہوتی تھیں۔چونکہ وہ گفتگوئیں مفید ہوتی تھیں اس لئے ان کو وہ مساجد کے آداب کے خلاف نہیں سمجھتے تھے۔اسی قسم کی ایک مجلس بغداد کی ایک مسجد میں لگی ہوئی تھی۔علماء بیٹھے ہوئے تھے کہ اثنائے گفتگو میں ایک شاعر کے کلام پر گفتگو چلی اور سوال ہوا کہ اس کے کلام کی جو اس قدر تعریف ہوتی ہے اور اس کو سب پر فضیلت دی جاتی ہے اس کا کیا باعث ہے۔اس موقع پر اس غریب کی جو شامت آئی تو وہ بھی رائے دینے لگا۔جس پر مجلس میں سے کسی شخص نے کہہ دیا کہ میاں تم کو بولنے کا کیا حق ہے۔تم اس بات کو کیا جانو۔پہلے سیکھو پھر بولنا۔یہ الفاظ سن کر وہ چپ ہورہے کیونکہ واقعی ان کو بولنے کا کوئی حق نہ تھا اور فوراً مجلس سے اٹھے اور شہر سے نکل گئے۔راستہ پر