زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 61

زریں ہدایات (برائے طلباء) 61 جلد سوم طاقتور ہو گے۔پس تم آج ہی سے فاتح بننا، حاکم بننا اور خدا کے اطاعت گزار اور قوم کے خدمت گزار اور ایثار کرنے والے اور فرائض شناس اور عہد کو پورا کرنے والے اور سچے بننے کی کوشش کرو اور اعلیٰ اخلاق سیکھو۔جب تک یہ اخلاق نہیں ہوں گے کچھ نہیں ہوگا۔آج لوگ جہاد کرنا چاہتے ہیں مگر جب ان کے اعلیٰ اخلاق ہی نہیں وہ کیا کریں گے۔مشہور ہے کہ چوہوں نے مشورہ کیا کہ بلی ہمیں بہت تکلیف دیتی ہے اس کے ظلموں کا سد باب ہونا چاہئے۔اس کے لئے ان کی ایک کمیٹی ہوئی۔کسی نے کہا میں اس کے کان پکڑ لوں گا۔کسی نے کہا میں ٹانگ پکڑلوں گا۔کسی نے کہا میں دم پکڑ لوں گا۔اسی طرح بہت سوں نے اپنی اپنی خدمات پیش کیں اور بلی کو مارنے کے لئے تیار ہو گئے۔لیکن بعد میں ایک بوڑھے چوہے نے کہا کہ یہ تو سب کچھ ہو گا مگر اس کی میاؤں کو کون روکے گا۔یہ سن کر سب ٹھنڈے ہو گئے۔تو جب تک کسی قوم کی اخلاقی حالت ہی اچھی نہ ہو اُس وقت تک وہ کسی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔کیونکہ جن باتوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کا اس قوم میں فقدان ہوتا ہے۔پس چاہئے کہ تم ابھی سے غریبوں کی مدد لنگڑوں لولوں کی خدمت کرو۔مثلاً اس طرح کہ وہ راستہ میں ہوں تو تم ان کو اپنے ساتھ لے لو۔اور ہمسائیوں کی مدد اور کمزوروں پر رحم کرو۔اس سے تمہاری اخلاقی بنیاد مضبوط اور درست ہوگی۔او۔اور استادوں کے لئے یہ نصیحت ہے کہ وہ بھی ہر نصیحت کا نمونہ بن کے دکھائیں۔جب اخلاص کے ساتھ تربیت مل جاتی ہے تو پھر کسی قوم کی ترقی کو خدا کے فضل سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔“ (الفضل 5 تا 9 اگست 1920ء) :1 منعض : مکدر - گدلا۔افسردہ - حزیں (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 1296 فیروز سنز لاہور مطبوعہ 2010ء) :2 مسلم كتاب الايمان باب معرفة طريق الرؤية صفحه 92، 93 حدیث نمبر 451 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية