زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 60

زریں ہدایات (برائے طلباء) 60 جلد سوم اہل یورپ کی ہزاروں خوبیاں چھوڑ کر ان کی خراب عادتوں کی نقل کرنا بہت ہی بڑی غلطی ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک بوڑھا جب گرتا ہے تو ایک نوجوان بھی گرنے لگے۔اس کو کہا جائے کہ بچو وہ کہے کہ جب بوڑھا تجربہ کار گر گیا ہے تو میں کیوں نہ گروں۔پس نادان ہیں وہ جو سٹرائکوں کو ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔کیونکہ یورپ میں سٹرائکیں اُس وقت شروع ہوئی ہیں جب یورپ کا قدم انحطاط و تنزل کی طرف اٹھنے لگا ہے۔یورپ نے جن باتوں سے ترقی کی وہ یہ تھیں کہ ان میں ایثار تھا، ہمدردی تھی ، اطاعت تھی۔اب وہ جو سٹرائکیں کرتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ پہاڑ پر سے نیچے گرنے لگے۔لیکن اگر ہندوستانی بھی سٹرائکیں کرتے ہیں تو ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی گڑھے میں پڑا ہوا اور نیچے کی طرف جانے لگے۔یہ تو میں نے وہ نصائح کی ہیں جو ہمارے سکول کے ہندو سکھ غیر احمدی بچوں کے لئے بھی مفید ہوسکتی ہیں۔اب میں یہ بتانے لگا ہوں کہ ہمارے احمدی لڑکوں کو کیا کرنا چاہئے۔ان کو خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زندہ مذہب دیا ہے اور ان کا خدا ہمیشہ اپنے پاک اور پیارے بندوں سے بولنے والا خدا ہے۔پس وہ خدا جو ایسا زندہ خدا ہے ہمیں اس کے بندے ہو کر زندہ ہونا چاہئے۔ہم میں ایسی گرمی ہونی چاہئے کہ جس سے ہم دوسرے سرد لوگوں میں بھی گرمی پیدا کر سکیں۔ہم نے بچپن میں ہی خدمت دین شروع کی۔اور یہ اللہ کا فضل ہے کہ میری عمر سترہ برس کی تھی جب میں نے رسالہ تفخیذ نکالا ہے۔اُس وقت مراد آباد کے ایک پرانے اور مشہور اخبار نے ریویو لکھا تھا کہ مذہبی رسالوں میں یہ رسالہ دوسرے نمبر پر ہے اور اول نمبر پر ہمارے ریویو کو مانا تھا۔پس تم زندہ خدا سے تعلق پیدا کرو اور ایسی حالت پیدا کرو کہ اگر تمہیں خدا کے لئے جان بھی دینا پڑے تو دے دو۔ماں باپ چھوڑنے پڑیں تو چھوڑ دو۔غرض کوئی بڑی سے بڑی چیز تمہارے لئے خدا کے مقابلہ میں روک نہیں ہونی چاہئے۔اگر اپنے آپ کو خدا ہی کے لئے کر دو گے تو خدا ہر میدان میں تمہارے ساتھ ہوگا۔میں نے تمہیں ایسی نصائح کی ہیں جو اگر چہ تمہارے اس وقت زیادہ کام نہ آئیں لیکن ایک وقت تمہیں یہ فائدہ دیں گی اگر تم ان پر عمل کرو گے۔اگر چہ آج تم کمزور ہو مگر تم