زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 59
زریں ہدایات (برائے طلباء) 59 جلد سوم جان جائے گی مگر فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں ہوگی۔ہندوستانی فوجیں جو انگریزوں کے زیر تربیت رہتی ہیں ان کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔کہتے ہیں ایک خاص قوم کی بھرتی کی گئی اور اس کو ایک معرکہ کے مقام پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجا جانے لگا تو انہوں نے کہا ہمارے ساتھ صلى الله ایک محافظ فوجی دستہ بھی ہونا چاہئے۔سرکار نے کہا کہ تمہیں تنخواہ کس کام کی دی جاتی ہے۔یہ ان کی تربیت کا نقص تھا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ اپنے فرائض | کی ادائیگی میں جان دے دیتے تھے اور ان کو جس کام پر لگایا جاتا تھا پورا کرتے تھے۔مگر آجکل کہتے ہیں جب تک افسر نہ ہوں فرائض ادا نہیں کئے جاسکتے اور ماتحتی کو ذلت سمجھتے ہیں۔حالانکہ جو ماتحتی میں کام نہیں کر سکتا وہ افسر ہو کر بھی کام کا اہل نہیں ہوتا۔چہارم ایفائے عہد ہے۔یہ عادت بھی اسی عمر میں پڑتی ہے۔اگر تمہیں تمہارا استاد یا تمہارا ہم جماعت کہتا ہے کہ فلاں وقت مجھ سے پڑھو یا آکر میرے ساتھ کھیلو۔اور تم وعدہ کرتے ہو تو خواہ کچھ ہو اس کو پورا کرو۔یہاں یہ مراد نہیں کہ تمہارا ہم جماعت یا کوئی اور لڑکا تمہیں کسی شرارت کے کام کے لئے کہے مثلاً یہ کہ فلاں کو ماریں تو یہ کوئی عہد نہیں۔لیکن اگر تم اس وقت عہد کے نباہنے کی کوشش نہیں کرو گے تو تمہیں عادت پڑ جائے گی کہ معمولی معمولی باتوں پر عہد کو توڑ دیا۔کرو گے۔پس جو عہد کرو اس کو جان کے ساتھ نبھاؤ اور اس کی ابھی سے عادت ڈالو۔پنجم اطاعت ہے۔یہ بھی ترقی کرنے والی قوم میں ہونی چاہیے۔اور یہ بھی بچپن میں ہی پیدا ہوا کرتی ہے۔ماں باپ کی اطاعت ، استاد کی اطاعت ، حاکم کی اطاعت ، بزرگوں کی اطاعت۔اگر تم میں اطاعت کا مادہ ہوگا تو تم فاتح ہوسکتے ہو۔ورنہ اطاعت کے نہ ہونے سے بہت سے ترقیوں کے مواقع تم سے کھوئے جائیں گے۔پس اطاعت تکلیف اٹھا کر بھی کرو۔یہ وہ اخلاق ہیں جنہیں سیکھ کر دنیا نے ترقی کی۔اور جس قوم میں ان اخلاق کی کمی ہو جائے اس کے متعلق سمجھو کہ اس کی بردباری کے دن آگئے۔آجکل کہتے ہیں کہ سٹرائیکوں میں ترقی ہے اور یورپ والے سٹرائکیں کرتے ہیں۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یورپ میں سٹرائیکوں کا سلسلہ کب چلا۔اُسی وقت سے جب سے کہ یورپ خود تباہی اور بربادی کی طرف جارہا ہے۔