زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 58
زریں ہدایات (برائے طلباء) 58 جلد سوم دوسروں کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہیں وہ دراصل اپنا نقصان نہیں کرتے بلکہ ان کا بھی فائدہ ہوتا ہے۔دوسرے جھوٹ کا مادہ تباہ کن ہوتا ہے اور اسی وقت اس کی بنیاد پڑتی ہے۔مثلا تم کسی موقع پرستی کرتے ہو جس پر سپرنٹنڈنٹ تمہیں سزا دینے لگتا ہے۔مگر تم اس غلطی سے انکار کرتے ہو حالانکہ تمہاری غلطی ہوتی ہے۔اُس وقت تمہیں جھوٹ بول کر سزا سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ برداشت کرنا چاہئے لیکن اگر نہیں کرو گے اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ جب کبھی تمہارے آگے مصیبت آئے گی تم گھبرا جاؤ گے اور مردانگی سے اس کو برداشت نہ کر سکو گے اور جھوٹ بول کر اس کو ٹالنا چاہو گے۔پس اگر تمہاری غلطی ہو تو قبول کرنا چاہئے۔اسی طرح ہر معاملہ میں سچ بولنا چاہئے۔عام طور پر یورپ والے ایشیائیوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم ان سے کیا معاملہ کریں۔یہ لوگ جھوٹ کے عادی ہوتے ہیں۔ہندوستانیوں پر بھی یہ عیب لگایا جاتا ہے۔ہندوستانی سچے ہوتے ہیں۔مگر ذاتی معاملات میں ان سے یہ کمزوری ہو جاتی ہے۔اس اعتراض کا کہ ہندوستانی جھوٹ بولتے ہیں لطیفہ کے طور پر ہندوستانیوں نے یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹے ہیں ہم تو آپ ہیں جھوٹوں کے بادشاہ یورپ کے لوگ معاملات میں جھوٹ نہیں بولتے اس لئے عدالتوں کو اپنا کام کرنے میں نہایت آسانی ہوتی ہے۔وہاں جو کچھ لوگ دیکھتے ہیں اس کی گواہی دے دیتے ہیں۔مگر برخلاف اس کے ہندوستان کی عدالتوں میں یہ ہوتا ہے کہ دوست کی خاطر صداقت کو چھپاتے ہیں۔تیسرے فرض منصبی کی ادائیگی کا خیال رکھو۔یہ بات بھی بچپن میں ہی سیکھی جاسکتی ہے۔کھیل میں تمہیں جہاں لگایا جائے وہاں کے فرائض خوب ادا کرو۔اور جب تمہیں ان کے ادا کرنے کی عادت ہوگی تو بڑے ہو کر جو کام تمہارے سپرد کئے جائیں گے تم ان کے کرنے میں کاہل اور نافرض شناس نہیں ہو گے۔یورپ کے لوگوں کی یہ کیفیت ہے کہ جہاں ان کو لگا دو