زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 57

زریں ہدایات (برائے طلباء) 57 جلد سوم اُس وقت اس نے کہا ہاں اب گولہ باری کرو۔افسر توپ خانہ نے کہا اب میں کیا کروں۔اسی طرح جب بلقان میں جنگ ہوئی تو ترکی محکمہ جنگ کی طرف سے ترکی افواج کے لئے جو سامانِ حرب بھیجا گیا اس کے جب صندوق کھولے گئے تو معلوم ہوا کہ اصلی کارتوسوں کی بجائے لکڑی کے کارتوس نما خول ان میں بھرے تھے اس کی بھی یہی وجہ تھی کہ افسر خود روپیہ کھا گئے۔پس جس ملک میں ایسے غدار حکمران ہوں وہ کس طرح تباہی سے بچ سکتا ہے اور جس قوم کا یہ کیریکٹر ہو کہ جوظلم کرتی ہو وہ دنیا میں کیسے حکومت کر سکتی ہے۔اخلاص بڑی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے مگر محض اخلاص سے اخلاق پیدا نہیں ہوتے۔بہت لوگ مخلص ہوتے ہیں مگر ان میں بعض اخلاقی کمزوریاں ہوتی ہیں۔اخلاق سیکھنے اور کوشش کرنے سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔اور جو لوگ اخلاق کو سیکھتے نہیں اگر ان سے اخلاق کے خلاف کوئی بات سرزد ہو تو ان کے اخلاص پر حرف نہیں آسکتا کیونکہ وہ مجبور ہیں۔پس اگر مشق نہ کرائی جائے تو اس زمانہ میں عادات خواہشات پر غالب آجاتی ہیں۔اور اگر ابتدا ہی سے اخلاق کی نگہداشت نہ کی جائے تو اخلاق درست نہیں ہو سکتے۔اور اخلاق کے بگڑنے سے قو میں بگڑتی اور اخلاق کے درست ہونے سے قو میں سنورتی ہیں۔تمہارے سامنے سب سے بڑا اور پہلا کام یہ ہے کہ تم ابھی سے اپنی اخلاقی حالت کی فکر کرو اور ہر بات میں اخلاق سیکھنے کی کوشش کرو۔اگر اس عمر میں | بچوں کے اخلاق کی درستی کی طرف توجہ نہ کی گئی اور ان میں برے اخلاق کی بنیاد پڑ گئی تو یہی بچے مذہب اور قوم کو بیچنے والے ہو جائیں گے۔اس لئے بچوں میں ابھی سے اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان کی واجبی عزت کرنی چاہئے۔کیونکہ اس زمانہ میں جس قسم کی باتیں ان میں راسخ ہوں گی وہی بڑے ہو کر ان سے ظہور میں آئیں گی۔اسی زمانہ میں ان کو حکومت کرنی آئے گی۔اس میں ان کو دوسروں سے خوش معاملگی اور ایثار کرنا آئے گا۔اور یہ معمولی معمولی باتوں سے ہوسکتا ہے۔مثلاً اسی جلسہ تقریر میں ایک شخص ضعیف ہو، اونچا سنتا ہو، وہ اگر تمہارے پاس آئے تو تم اس کے لئے جگہ چھوڑ دو۔کمزور کی مدد کرو، دوسروں کے فوائد کو مد نظر رکھو۔جو لوگ دوسروں کے فوائد کو مد نظر نہیں رکھتے انہی کے لئے تباہیاں آتی ہیں۔لیکن وہ جو